یوکرینی صدر نے کہا کہ یہ ایک اہم تنصیب ہے جو روس کی جنگی سرگرمیوں کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
یوکرین نے علاقے میں روسی بحریہ کے ایک اہم اڈے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ زیلنسکی کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ اور اس کے گرد و نواح میں جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا، وہ یوکرین کی سرحد سے تقریباً 850 کلومیٹر (528 میل) دور واقع ہیں۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے سے کتنا نقصان ہوا، تاہم زیلنسکی کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ایک ڈرون کو ہدف کی جانب بڑھتے اور حملے کے بعد علاقے سے سیاہ دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سینٹ پیٹرزبرگ کے گورنر الیگزاندر بیگلوف نے کہا کہ شہر پر ڈرونز کا بڑا حملہ کیا گیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ تیل ٹرمینل اس حملے سے متاثر ہوا ہے، تاہم ان کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
حالیہ ہفتوں میں یوکرین نے روس کے توانائی کے شعبے سے متعلق اہم تنصیبات پر ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ کیئو کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں روس کی تیل صاف کرنے کی تقریباً 43 فیصد صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
Ukrainian drone attack hit an oil terminal at the Port of St. Petersburg overnight, according to Russian officials but no casualties were reported. Ukrainian President Volodymyr Zelenskyy confirmed the attack, sharing the footage on his X account, while the Russian Defence… pic.twitter.com/j6vY3obNG1
— TRT World (@trtworld) July 4, 2026
یوکرین کا مؤقف ہے کہ روس کی تیل اور گیس تنصیبات جائز فوجی اہداف ہیں، کیونکہ ماسکو جنگ جاری رکھنے کے لیے بڑی حد تک تیل اور گیس کی برآمدات پر انحصار کرتا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے گزشتہ ہفتے یوکرینی حملوں کے باعث ایندھن کی قلت کا اعتراف کیا تھا اور انہوں نے ہفتے کے روز ایک ایسے قانون پر دستخط کیے جس کا مقصد ملکی منڈی میں ایندھن کی فراہمی کو بڑھانا ہے۔
یاد رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل پیمانے پر حملہ شروع کیا تھا۔
یوکرینی فوج کے مطابق یہ روس کے سب سے بڑے تیل ٹرمینلز میں سے ایک ہے، جو سالانہ ایک کروڑ 25 لاکھ ٹن پیٹرولیم مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرونشتادت میں روسی بالٹک بحری بیڑے کے ایک اہم اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
روس نے اس دعوے پر تاحال کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا ہے۔
گورنر بیگلوف کے مطابق، سینٹ پیٹرزبرگ اور لینن گراڈ کے علاقے میں یوکرین کے 72 ڈرون مار گرائے گئے۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ خطرہ ٹلنے تک گھروں کے اندر رہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موبائل انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ کی آبادی 50 لاکھ سے زائد ہے۔






