بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ حملے گزشتہ کئی ماہ کے دوران روس کی جانب سے کیے جانے والے سب سے بڑے فضائی حملوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، حملوں کا مرکزی ہدف دارالحکومت کیف سمیت متعدد اہم شہر تھے، جہاں رات بھر دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

یوکرین کی ایمرجنسی سروسز کے مطابق حملوں میں مشرقی شہر ڈنیپرو میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہوئے جبکہ دارالحکومت کیف میں 4 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ کئی عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہو چکی ہیں اور امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

حکام کے مطابق روسی حملوں کے دوران رہائشی عمارتوں، تجارتی مراکز اور دیگر شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ متعدد علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی جس پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائیاں شروع کر دیں۔

کیف کے میئر ویتالی کلچکو نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور فضائی حملوں کے خطرات کے پیش نظر محفوظ پناہ گاہوں میں رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے کئی حصوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے جبکہ امدادی ادارے مسلسل متحرک ہیں۔

دارالحکومت کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ نے بتایا کہ روسی افواج نے حملوں میں بیلسٹک میزائلوں کے علاوہ مختلف اقسام کے ڈرون بھی استعمال کیے، یوکرینی فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائل اور ڈرون تباہ کیے، تاہم کئی حملے اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے جس کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان ہوا۔

حملوں کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی جبکہ مواصلاتی نظام بھی جزوی طور پر متاثر ہوا،  متاثرہ شہریوں کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب روسی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیاں یوکرین کی جانب سے روسی علاقوں پر کیے جانے والے ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی ہیں۔ ماسکو کا مؤقف ہے کہ یوکرین مسلسل روسی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے، جس کے جواب میں فوجی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

ادھر یوکرینی حکومت نے روسی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ یوکرین کے حکام نے مغربی اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ روس پر مزید سفارتی اور معاشی دباؤ ڈالا جائے اور یوکرین کو جدید دفاعی نظام فراہم کیے جائیں تاکہ ایسے حملوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

 حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ بندی اور امن مذاکرات کی کوششوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سرحدی علاقوں اور بڑے شہروں پر حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے خطے میں امن کی امیدیں مزید دھندلا گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، صدر ٹرمپ

عالمی برادری نے بھی تازہ حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ اور یورپی ممالک نے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

واضح رہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے بلکہ اس کے اثرات یورپ کی سیکیورٹی، عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے بین الاقوامی سطح پر نئے چیلنجز جنم لینے کا خدشہ ہے۔