خبر رساں ایجنسی کے مطابق روسی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین نے نووگورود ریجن میں واقع صدر پیوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ حملے کے وقت صدر پیوٹن وہاں موجود تھے یا نہیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے دعویٰ کیا کہ یوکرین نے 28 اور 29 دسمبر کی درمیانی شب رہائش گاہ پر 91 لانگ رینج ڈرونز فائر کیے۔ ان کے مطابق روسی فضائی دفاع نے یوکرین کے فائر کیے گئے تمام ڈرونز مار گرائے۔
سرگئی لاؤروف نے اس حملے کو ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حملہ اُس وقت کیا گیا جب روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ امن معاہدے پر بات چیت جاری تھی، جب کہ روس امن مذاکرات سے باہر نہیں نکلے گا مگر بات چیت سے متعلق اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کرے گا۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں ’’جھوٹ‘‘ قرار دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ روس امن بات چیت کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے اور یوکرین کی سرکاری عمارتوں پر حملوں کا بہانہ تراش رہا ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ امریکا کو روس کی دھمکیوں پر مؤثر ردعمل دینا چاہیے۔






