قومی کرسمس ٹری لائٹنگ تقریب سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا دنیا بھر میں جنگوں کے خاتمے کے لیے تاریخی اقدامات اٹھا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم دنیا کے مختلف حصوں میں امن قائم کر رہے ہیں، آٹھ تنازعات حل ہو رہے ہیں اور اب روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کی بھی کوشش جاری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم آخرکار اسے روکنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ میں ہزاروں نہیں بلکہ دسوں ہزار فوجی جانیں گنوا رہے ہیں، لہٰذا اس خونریزی کا رکنا ضروری ہے اور امریکا اس حوالے سے پوری سنجیدگی سے سرگرم ہے۔
Trump: "We are looking for another option for a settlement between Russia and Ukraine, if possible, and I think we will eventually achieve it... This has to be stopped. We are working very hard on this." pic.twitter.com/RI5byWteAR
— PPN - PulsePoint News (@wogoa1) December 5, 2025
خیال رہے کہ امریکا نے پہلے یوکرین تنازع کے حل کے لیے 28 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا جس پر کیف اور اس کے یورپی اتحادیوں نے تحفظات کا اظہار کیا۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ منصوبے کو نظرِ ثانی کے بعد 22 نکات تک محدود کردیا گیا ہے اور چند نکات پر اختلاف باقی ہے۔
23 نومبر کو امریکا اور یوکرین کے وفود نے جنیوا میں مذاکرات کیے، جس کے بعد 30 نومبر کو فلوریڈا میں دوبارہ ملاقات ہوئی۔ مذاکرات میں جنگ بندی، مستقبل کی سکیورٹی حکمت عملی، معاشی امور، یوکرین انتخابات کے امکانات اور علاقائی تنازع پر بات چیت کی گئی۔
2 دسمبر کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی خصوصی صدارتی ایلچی سٹیو وٹکوف اور سابق صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے ماسکو میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی جس میں امریکی امن منصوبے کی تمام دستاویزات پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔
یوکرین کی نیشنل سکیورٹی اینڈ ڈیفنس کونسل کے سیکرٹری رستم عمروف 4 دسمبر کو امریکی ایلچی وٹکوف سے مزید مذاکرات کے لیے واشنگٹن روانہ ہوں گے۔







