سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق بدھ کے روز صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے صدر زیلنسکی نے اس منصوبے کی بنیادی تفصیلات سے آگاہ کیا اور دعویٰ کیا کہ مسودہ بڑی حد تک یوکرین اور امریکا کے مشترکہ مؤقف کی ترجمانی کرتا ہے، تاہم کئی اہم نکات اب بھی حل طلب ہیں۔
Zelensky outlined all 20 points of the peace plan for Ukraine:
— Jürgen Nauditt 🇩🇪🇺🇦 (@jurgen_nauditt) December 24, 2025
➡️ Confirmation of Ukraine s sovereignty.
➡️ A non-aggression pact between Russia and Ukraine, with monitoring along the line of contact.
➡️ Security guarantees.
➡️ The size of Ukraine s armed forces will be… pic.twitter.com/rbt0e4rjGl
اُن کا کہنا تھا کہ منصوبے کی سب سے متنازع شق زیپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق ہے، جو فی الحال مکمل طور پر روس کے کنٹرول میں ہے۔ یوکرینی حکومت چاہتی ہے کہ یہ پلانٹ یوکرین اور امریکا مشترکہ طور پر 50-50 کی بنیاد پر چلائیں، جب کہ امریکی تجویز کے مطابق ایک سہ فریقی انتظام ہو جس میں روس بھی شامل ہو۔
منصوبے کے ایک آپشن میں روسی افواج کو خارکوف، دنیپروپیٹروسک، سومی اور نکولائیف سے انخلا کا کہا گیا ہے، جب کہ ڈونیٹسک، لوگانسک، زاپوروزئے اور کھیرسون میں موجود فرنٹ لائنز پر جنگ کو منجمد کرنے کی تجویز شامل ہے۔
امن منصوبے کے مطابق یوکرین کو امن کے دور میں آٹھ لاکھ اہلکاروں پر مشتمل فوج برقرار رکھنی ہوگی، حالانکہ صدر زیلنسکی پہلے اعتراف کر چکے ہیں کہ یہ تعداد مغربی مالی تعاون کے بغیر برقرار رکھنا ممکن نہیں۔
Zelensky says Ukrainian withdrawal from the East possible in latest peace plan https://t.co/8GHRSMoGyS
— BBC News (World) (@BBCWorld) December 24, 2025
زیلنسکی نے امریکا، نیٹو اور یورپی ممالک سے آرٹیکل فائیو جیسی سکیورٹی گارنٹیز کا مطالبہ بھی کیا ہے، یعنی جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں مغربی فوجی ردعمل کی یقین دہانی۔ اس کے بدلے یوکرین غیر جوہری حیثیت پر قائم رہے گا، جب کہ اسے یورپی یونین کی رکنیت میں تیزی اور 800 ارب ڈالر تک کے تعمیرِ نو فنڈز کی امید ہے۔
صدر زیلنسکی کے مطابق امن معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد یوکرین میں انتخابات کرائے جائیں گے۔
دوسری جانب روسی حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کے لیے ضروری ہے کہ یوکرین میں ایک جائز حکومت موجود ہو۔
زیلنسکی کے مجوزہ منصوبے کے مطابق مکمل جنگ بندی تب ہی ممکن ہوگی جب تمام فریقین فریم ورک پر اتفاق کر لیں گے۔






