بحیرۂ روم میں واقع یورپ کا جنوبی ترین ملک یونان طویل عرصے سے تارکینِ وطن کے لیے یورپ میں داخلے کا ایک اہم دروازہ رہا ہے۔ 2015-16 کے مہاجر بحران کے دوران، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے دس لاکھ سے زائد افراد یورپ پہنچنے کے لیے یونان کے راستے گزرے تھے۔

اگرچہ اس کے بعد آنے والے مہاجرین کی تعداد میں کمی آئی، تاہم افریقی ساحل کے قریب واقع بحیرۂ ایجیئن کے دو یونانی جزائر، کریٹ اور گاودوس، گزشتہ چند برسوں کے دوران لیبیا سے روانہ ہونے والی تارکینِ وطن کی کشتیوں کی آمد میں نمایاں اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے یورپی یونین کے قانون سازوں اور رکن ممالک کی حکومتوں نے نئے قواعد پر اتفاق کیا، جن کے تحت ایسے تارکینِ وطن کو، جنہیں یورپی یونین چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہو، تیسرے ممالک میں قائم مراکز میں بھیجا جا سکے گا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے بدسلوکی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

یونان، نیدرلینڈز، ڈنمارک، جرمنی اور آسٹریا کے ساتھ مل کر مشترکہ واپسی اور عبوری مراکز قائم کرنے پر کام کر رہا ہے، جبکہ اسی نوعیت کے ایک الگ دو طرفہ انتظام کے حوالے سے مذاکرات فی الحال معطل ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی حملے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں، ایران

منگل کے روز ووٹنگ سے قبل یونان کے وزیرِ مہاجرت تھانوس پلیوریس نے کہا کہ یورپی یونین کے رکن ممالک تیسرے ممالک کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور امید ہے کہ رواں سال پہلے معاہدوں کو حتمی شکل دے دی جائے گی تاکہ یہ مراکز 2027 تک فعال ہو سکیں۔

پلیوریس نے بدھ کے روز نیم سرکاری ایتھنز نیوز ایجنسی کو بتایا، "یونانی حکومت پہلے ہی دو افریقی ممالک کے ساتھ مشاورت کر چکی ہے۔" تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔