ماہرین صحت کے مطابق گرمی انسانی جسم پر مختلف انداز میں اثر انداز ہوتی ہے۔ ہیٹ ایگزوسٹشن میں چکر آنا، سر درد، کپکپی اور شدید پیاس جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جو بروقت آرام اور ٹھنڈک ملنے پر قابو میں آ جاتی ہیں۔
تاہم زیادہ خطرناک حالت ہیٹ اسٹروک ہے، جب جسم کا اندرونی درجہ حرارت 40.6 ڈگری سیلسیس (105 ڈگری فارن ہائیٹ) سے تجاوز کر جائے۔ یہ ایک میڈیکل ایمرجنسی ہے جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے اور اس سے اعضا کو مستقل نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
دل، سانس اور ذیابیطس کے مریض، بزرگ افراد، چھوٹے بچے اور بیرونی ماحول میں کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ ماہرین کے مطابق ہیٹ ویوز ایک “خاموش قاتل” ہیں جن کے اثرات اکثر بعد میں سامنے آتے ہیں۔
اسی ہیٹ ویو کے دوران فرانس بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں دارالحکومت پیرس میں شہریوں نے گرمی سے بچنے کے لیے برقی پنکھوں اور ائیر کنڈیشنرز کی خریداری شروع کر دی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پیرس کے ایک الیکٹرانکس اسٹور پر صبح کے وقت صارفین کی بڑی تعداد دیکھی گئی، جہاں لوگ پنکھوں کے ڈبے اٹھائے نظر آئے۔
اسٹور کے سیلز ہیڈ نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے جب سے گرمی کی لہر شروع ہوئی ہے، پنکھوں اور اے سی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور اسٹاک تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
صورتحال اس حد تک پہنچ گئی کہ ایک اسٹور میں صرف 30 منٹ کے اندر تمام پنکھے فروخت ہوگئے۔
مزید پڑھیں:لکھنؤ: کوچنگ سینٹر کی عمارت میں آتشزدگی، 15 افراد ہلاک
فلم ساز وکٹوریہ یاکوبوف، جو خریداری کے لیے اسٹور پہنچی تھیں، نے بتایا کہ وہ صبح نہار منہ ہی پنکھا لینے آئیں کیونکہ گرمی ناقابل برداشت ہو چکی ہے، لیکن چند ہی منٹوں میں تمام پنکھے ختم ہو گئے۔
فرانسیسی محکمہ موسمیات کے مطابق پیرس میں درجہ حرارت 38 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کی توقع ہے، جس کے باعث شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
یورپ سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں جاری اس شدید گرمی کی لہر کو ماہرین موسمیاتی تبدیلی سے منسلک قرار دے رہے ہیں، جس کے باعث گرمی کی شدت اور اس کے اثرات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔







