غیر ملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق غزہ کی صورتحال بدستور سنگین ہے اور جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ تازہ واقعے میں بنی سہیلہ کے علاقے میں اسرائیلی ڈرون حملے میں 8 اور 10 سالہ دو کمسن بھائی جاں بحق ہوگئے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں تقریباً 50 ہزار افراد نے مارچ کیا۔ شرکاء نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور نعرے لگا رہے تھے: "غزہ، غزہ- پیرس تمھارے ساتھ ہے" اور اسرائیل قتلِ عام بند کرو۔

مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل روزانہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے، امداد روک رہا ہے اور گھروں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے۔

فرانس فلسطین یکجہتی ایسوسی ایشن کی سربراہ نے کہا کہ سات ہفتے بعد بھی کچھ حل نہیں ہوا، اسرائیل جنگ بندی کو دھوکہ بنا کر پیش کر رہا ہے۔

لندن میں بھی ہزاروں افراد نے مارچ کیا اور اسرائیلی جرائم پر عالمی احتساب کا مطالبہ کیا، اطالوی دارالحکومت روم کی مرکزی ریلی میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسیسکا البانیسی اور عالمی شہرت یافتہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے بھی شرکت کی۔ البانیسی نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل غزہ ہی نہیں بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی نسل کشی کر رہا ہے۔ اسے روکا جانا ضروری ہے۔

امریکی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فورسز غزہ کے نصف سے زیادہ علاقے پر قابض ہیں اور اب تک کم از کم 500 خلاف ورزیوں میں 347 فلسطینیوں کو شہید اور 889 کو زخمی کرچکی ہیں۔

بنی سہیلہ میں جاں بحق ہونے والے کمسن بھائی فادی اور جمعہ ابو اسعی کی عمر بالترتیب 8 اور 10 سال تھی۔ ان کے چچا کے مطابق بچے اپنے معذور والد کے لیے لکڑیاں اکٹھی کر رہے تھے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں اور انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں کسی بھی صورت قبول نہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فورسز جنگ بندی کے باوجود نسل کشی کے جرائم جاری رکھے ہوئے ہیں۔