تفصیلات کے مطابق ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے جانے والے مجوزہ محصولات جو فروری سے (10 فیصد اور جون سے 25 فیصد تک ہوں گے) پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ محصولات ان ممالک کی مختلف برآمدات پر نافذ کیے جائیں گے۔
ان ممالک نے اپنے مشترکہ خط میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کے ساتھ مکمل طور پر کھڑے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم یہ مذاکرات خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں پر مبنی ہونے چاہئیں، جن پر ہم ہمیشہ سے قائم ہیں۔
تمام آٹھوں ممالک نیٹو کے رکن ہیں اور انہوں نے زور دیا کہ وہ آرکٹک خطے کی سلامتی کو بحرِ اوقیانوس کے مشترکہ مفاد کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔
Joint statement by Denmark, Finland, France, Germany, the Netherlands, Norway, Sweden, and the United Kingdom 👇 pic.twitter.com/9DhI2nmv6w
— Jesper Møller Sørensen 🇩🇰 (@DKambUSA) January 18, 2026
اسی ضمن میں انہوں نے حالیہ ڈنمارک کی فوجی مشق "آرکٹک انڈیورنس" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مشق ان کے تحفظ اور تعاون کے عزم کی عملی مثال ہے اور کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں۔
مشترکہ بیان کے بعد ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے کہا کہ انہیں اپنے اتحادیوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر یورپی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
فریڈرکسن نے مزید کہا کہ وہ یورپ کے مختلف حصوں سے ملنے والے یکساں پیغامات پر خوش ہیں۔ ان کے بقول یورپ کو بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ڈنمارک کا نہیں بلکہ پورے یورپ کی خودمختاری اور اصولی مؤقف کا ہےاب یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ مسئلہ ہماری سرحدوں سے بہت آگے تک پھیلا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ گرین لینڈ ایک خودمختار علاقہ ہے، تاہم وہ ڈنمارک کے زیرِانتظام ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم فریڈرکسن نے کہا کہ ڈنمارک تصادم کی راہ نہیں بلکہ تعاون کی راہ تلاش کر رہا ہے۔







