بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی معروف فوڈ کمپنی نیسلے، جو کِٹ کیٹ برانڈ کی مالک ہے،نئی چاکلیٹ رینج پر مشتمل ایک ٹرک دورانِ ترسیل لاپتا ہو گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق چوری ہونے والی کھیپ میں چار لاکھ 13 ہزار 793 یونٹس شامل تھے، جن کا مجموعی وزن تقریباً 12 ٹن بنتا ہے۔ یہ کھیپ گزشتہ ہفتے اس وقت غائب ہوئی جب اسے پیداواری مقام سے یورپ کے مختلف تقسیم مراکز کی جانب منتقل کیا جا رہا تھا۔
ترجمان کے مطابق یہ ٹرک وسطی اٹلی سے روانہ ہوا تھا اور اسے پولینڈ پہنچنا تھا، جبکہ راستے میں مختلف یورپی ممالک میں چاکلیٹ کی ترسیل بھی کی جانی تھی۔ تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کھیپ کس مقام پر لاپتا ہوئی، البتہ ٹرک اور اس میں موجود تمام سامان تاحال نہیں ملا۔
Thieves stole more than 12 tons of KitKat bars while a shipment was en route across Europe
— Dexerto (@Dexerto) March 28, 2026
Nestle says the chocolate heist could cause shortages ahead of Easter pic.twitter.com/fqMclfW3Ev
کمپنی کے ترجمان نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے قدرے مزاحیہ انداز اختیار کیا اور کہا کہ "ہم ہمیشہ لوگوں کو کِٹ کیٹ کے ساتھ وقفہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں، لیکن لگتا ہے چوروں نے اس پیغام کو کچھ زیادہ ہی سنجیدگی سے لے لیا اور پورا ٹرک ہی لے اڑے۔"
نیسلے نے خبردار کیا ہے کہ اس چوری کے باعث یورپی مارکیٹس میں کِٹ کیٹ کی دستیابی متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسٹر جیسے اہم موقع سے قبل صارفین کو اپنی پسندیدہ چاکلیٹ حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
کمپنی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چوری شدہ چاکلیٹس غیر قانونی طریقوں سے مارکیٹ میں فروخت کی جا سکتی ہیں۔ اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہر چاکلیٹ بار پر موجود منفرد بیچ کوڈز کے ذریعے ان مصنوعات کی شناخت ممکن ہے، اور اگر کسی کو مشکوک پراڈکٹس نظر آئیں تو فوری اطلاع دی جائے۔
واقعے کے بعد مقامی حکام اور سپلائی چین سے وابستہ اداروں کے تعاون سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ چوری شدہ کھیپ کی تلاش کے لیے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے واقعات نہ صرف کمپنیوں کے مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ سپلائی چین کو بھی متاثر کرتے ہیں، جس کے اثرات براہِ راست صارفین تک پہنچتے ہیں۔







