بیلجیئم کے وزیر دفاع تھیو فرانکن نے انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب یاشار گولر کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد اس اہم پیش رفت کی تصدیق کی۔

دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دفاعی پیداوار، عسکری ٹیکنالوجی، مشترکہ سرمایہ کاری، فضائی دفاع، ڈرون ٹیکنالوجی اور نیٹو تعاون سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انقرہ میں بیلجیئم کے سفیر کی رہائش گاہ پر منعقدہ دفاعی اور ایروناٹیکل نیٹ ورکنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تھیو فرانکن نے کہا کہ آج کا دن بیلجیم اور ترکیہ کے تعلقات میں نئی تاریخ رقم کر رہا ہے اور دونوں ممالک مستقبل میں دفاعی شعبے میں مزید قریبی تعاون چاہتے ہیں۔

بیلجیئم کے وزیر دفاع نے ان معاہدوں کو دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی دفاعی شراکت داری کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپ میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث دفاعی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔

ان کے مطابق 6 دفاعی صنعتی معاہدوں پر بدھ کے روز انقرہ میں دستخط کیے گئے جبکہ مزید 3 معاہدے پیر کے روز استنبول میں طے پائے،دونوں ممالک نے ایک اعلیٰ سطحی "لیٹر آف انٹینٹ" پر بھی دستخط کیے ہیں جس کے تحت مستقبل میں طویل المدتی اسٹریٹیجک دفاعی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

تھیو فرانکن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کے دوران ترکیہ کے جدید دفاعی نظام اور خاص طور پر ترک ڈرون ٹیکنالوجی پر بھی  تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بیلجیم مستقبل میں ترک ساختہ ڈرونز کے حصول میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ ترکیہ نے حالیہ برسوں میں دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے کسی بھی ممکنہ خریداری کا فیصلہ یورپی یونین کے دفاعی اور خریداری قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: چین ، ایران کو خلیج میں جاری اقدامات سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ کرے: امریکی وزیر خارجہ

یہ اہم پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپی ممالک روس سے لاحق ممکنہ خطرات اور عالمی سکیورٹی چیلنجز کے باعث اپنی دفاعی حکمت عملیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں، نیٹو میں امریکا کے کردار سے متعلق جاری بحث کے بعد یورپی ممالک اپنی مقامی دفاعی صنعتوں کو مزید مستحکم بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اسی تناظر میں بیلجیم نے یورپی یونین کے 150 ارب یورو مالیت کے ایس اے ایف ای دفاعی پروگرام میں ترکیہ کی شمولیت کی بھی حمایت کر دی ہے۔ یہ پروگرام یورپی دفاعی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور مشترکہ دفاعی منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

یاد رہے  کہ ترکیہ اور بیلجیم کے درمیان بڑھتا ہوا عسکری تعاون نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ یورپی دفاعی اتحاد میں بھی نئی جہت پیدا کرے گا، ترکیہ کی دفاعی صنعت، خاص طور پر ڈرون ٹیکنالوجی، اس وقت عالمی سطح پر تیزی سے توجہ حاصل کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ مذاکرات بیلجیئم کی ملکہ میتھلڈے کی قیادت میں جاری 4 روزہ اقتصادی مشن کے دوران ہوئے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔