یورپی ملک سلووینیا نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر سفری پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ غزہ میں جاری جنگ، انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سلووینیا نے گزشتہ برس فلسطین کو باضابطہ ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا، جب کہ رواں برس جولائی میں اسرائیل کے دو انتہائی دائیں بازو کے وزرا پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں تھیں۔

سلووینیا نے اسرائیل سے اسلحے کی درآمد، برآمد اور نقل و حمل پر بھی مکمل پابندی لگا رکھی ہے۔

سلووینین وزارت خارجہ کی سیکرٹری آف اسٹیٹ نیوا گراسک نے ایک بیان میں کہا کہ اس فیصلے سے سلووینیا بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کی عالمی اقدار اور اپنی اصولی و مستقل خارجہ پالیسی سے وابستگی کا اعادہ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی اس لیے کی گئی ہے کیونکہ نیتن یاہو پر غزہ میں جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے اور وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں زیر تفتیش ہیں۔

نیوا گراسک کے مطابق عوام اس بات سے آگاہ ہیں کہ نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات پر کارروائی جاری ہے۔

یاد رہے کہ سلووینیا ان چند یورپی ممالک میں شامل ہے جو غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی میں اضافے کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں۔

اگست میں سلووینیا نے اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں میں پیدا ہونے والی اشیاء کی درآمد پر بھی پابندی عائد کی اور غزہ کے محصور فلسطینیوں کے لیے ایک اضافی امدادی پیکج کی منظوری دی۔

واضح رہے کہ جولائی میں اسرائیلی وزرا اتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ کو فلسطینیوں کے خلاف نسل کش بیانات دینے اور تشدد کو ہوا دینے پر ان کو ناپسندیدہ قرار دے کر ان کے داخلے پر پابندی لگائی گئی تھی۔