اتوار کے روز جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اس بل کی منظوری اسرائیل کے جمہوری اصولوں سے متعلق وعدوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یورپی وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اس قانون کی نوعیت بظاہر امتیازی ہے، جو انصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہو سکتی ہے۔
اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ میں اس بل کو دوسرے اور تیسرے مرحلے میں پیش کیے جانے کا امکان ہے اور منظوری کی صورت میں اسے قانونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں جا سکتا ہے۔
یہ قانون ایک ایسے وقت میں زیر غور ہے جب غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور مغربی کنارہ میں بڑھتے ہوئے تشدد پر عالمی سطح پر تنقید جاری ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس مجوزہ قانون کو اسرائیل کے مبینہ امتیازی نظام کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سزائے موت کو فلسطینیوں کے خلاف ایک نئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
تنظیم کے مطابق یہ ترامیم نہ صرف انتہائی سزا کو مخصوص طبقے تک محدود کرتی ہیں بلکہ عدالتی صوابدید کو بھی کم کر دیتی ہیں، جس سے انفرادی حالات کو مدنظر رکھنے کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی خبردار کیا تھا کہ یہ قانون عدالتوں کو متناسب سزا دینے سے روک سکتا ہے۔
ادھر کونسل آف یورپ کے سربراہ ایلین برسے نے اسرائیل سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قانون کو ترک کر دے، کیونکہ کونسل ہر حالت میں سزائے موت کی مخالفت کرتی ہے۔
The foreign ministers of Australia, Britain, France, Germany and Italy released a statement Sun urging Israel to abandon plans to pass the law, calling it “de facto discriminatory," and saying the death penalty was unethical and had no “deterring effect.”https://t.co/X564wONOiw
— The Wire (@thewire_in) March 31, 2026
دوسری جانب پیڈرو سانچیز نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون صرف غیر یہودیوں، خاص طور پر فلسطینیوں پر لاگو ہوگا، جو ایک جرم، دو سزائیں کے مترادف ہے۔
انہوں نے اسے انصاف کے خلاف اور نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کی طرف ایک اور قدم قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے خاموش نہ رہنے کا مطالبہ کیا۔







