پیر کے روز برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا، جس میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف ممکنہ پابندیوں پر غور کیا گیا۔

یورپی یونین کے رکن ممالک کی جانب سے گزشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے بستیوں کے مسلسل پھیلاؤ کو قرار دیا جا رہا ہے، جنہیں عالمی قوانین کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

یورپی یونین کے ایک سینئر سفارتکار کے مطابق پیر کو یورپی کمیشن نے ممکنہ اقدامات کا ایک مسودہ پیش کیا جس میں متعدد آپشنز شامل ہیں، جن میں درآمدی لائسنسنگ کا نظام، برآمدی ٹیکس یا مکمل پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کیلاس نے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال ناقابلِ برداشت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دو ریاستی حل کے نفاذ کو مزید مشکل بلکہ تقریباً ناممکن بنا رہا ہے۔

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں کسی حتمی فیصلے کی توقع نہیں، تاہم اس سے یہ اندازہ لگانے میں مدد ملے گی کہ اس معاملے پر آگے بڑھنے کے لیے یورپی یونین کے رکن ممالک میں کتنی حمایت موجود ہے۔

کچھ سفارتکاروں کے مطابق اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کرنے کے لیے کم از کم 15 رکن ممالک کی حمایت درکار ہوگی، جو یورپی یونین کی مجموعی آبادی کے کم از کم 65 فیصد کی نمائندگی کرتے ہوں۔

واضح رہے کہ اسپین، آئرلینڈ اور بیلجیم اسرائیل کی سیٹلمنٹ پالیسی کے باعث اس پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں، جب کہ جرمنی اور اٹلی نے تاحال اس حوالے سے کسی ایسے اقدام کی حمایت یا مخالفت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔