پیر کے روز برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا، جس میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف ممکنہ پابندیوں پر غور کیا گیا۔
Israeli settlers install first structures at illegal Ganim settlement in occupied West Bank
— The Cradle (@TheCradleMedia) July 13, 2026
——
Israeli settlers installed the first caravan structure at the illegal settlement of Ganim, east of Jenin, in the occupied West Bank, roughly 20 years after the outpost was evacuated in… pic.twitter.com/VBInGMvcNt
یورپی یونین کے رکن ممالک کی جانب سے گزشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف بڑھتا ہوا تشدد اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے بستیوں کے مسلسل پھیلاؤ کو قرار دیا جا رہا ہے، جنہیں عالمی قوانین کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔
یورپی یونین کے ایک سینئر سفارتکار کے مطابق پیر کو یورپی کمیشن نے ممکنہ اقدامات کا ایک مسودہ پیش کیا جس میں متعدد آپشنز شامل ہیں، جن میں درآمدی لائسنسنگ کا نظام، برآمدی ٹیکس یا مکمل پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کیلاس نے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال ناقابلِ برداشت ہے۔
EU foreign ministers are discussing today options to deal with illegal Israeli settlements in the West Bank.
— euronews (@euronews) July 13, 2026
The most controversial one? A partial or outright trade ban between Europe and these settlements.
Angela Skujins reports for #EuropeToday pic.twitter.com/8nhj4qqpkB
انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دو ریاستی حل کے نفاذ کو مزید مشکل بلکہ تقریباً ناممکن بنا رہا ہے۔
سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں کسی حتمی فیصلے کی توقع نہیں، تاہم اس سے یہ اندازہ لگانے میں مدد ملے گی کہ اس معاملے پر آگے بڑھنے کے لیے یورپی یونین کے رکن ممالک میں کتنی حمایت موجود ہے۔
کچھ سفارتکاروں کے مطابق اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کرنے کے لیے کم از کم 15 رکن ممالک کی حمایت درکار ہوگی، جو یورپی یونین کی مجموعی آبادی کے کم از کم 65 فیصد کی نمائندگی کرتے ہوں۔
واضح رہے کہ اسپین، آئرلینڈ اور بیلجیم اسرائیل کی سیٹلمنٹ پالیسی کے باعث اس پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں، جب کہ جرمنی اور اٹلی نے تاحال اس حوالے سے کسی ایسے اقدام کی حمایت یا مخالفت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔






