عالمی خبررساں اداروں کے مطابق یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے سفیروں نے تحریری ووٹنگ کے ذریعے معاہدے کی منظوری دی، جس کے بعد یہ معاہدہ باضابطہ طور پر دستخط کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ تاہم، معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے لیے یورپی پارلیمنٹ کی منظوری ابھی باقی ہے۔

یہ معاہدہ یورپی یونین کی جانب سے اب تک کیا جانے والا سب سے بڑا تجارتی معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت یورپ اور جنوبی امریکا کے ممالک ارجنٹینا، برازیل، پیراگوئے اور یوراگوئے کے درمیان دنیا کا سب سے بڑا آزاد تجارتی زون قائم ہو جائے گا، جس کی مجموعی آبادی 70 کروڑ سے زائد ہوگی۔

جرمنی، اسپین اور یورپی کمیشن سمیت معاہدے کے حامی ممالک کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ نئی منڈیوں تک رسائی فراہم کرے گا، امریکی ٹیرف کے باعث ہونے والے تجارتی نقصانات کا ازالہ کرے گا اور چین پر انحصار کم کرنے میں مدد دے گا۔

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے معاہدے کو یورپی تجارتی پالیسی میں اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یورپ اور جنوبی امریکا کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرے گا۔

دوسری جانب فرانس اور پولینڈ نے معاہدے کی مخالفت جاری رکھی، تاہم اٹلی کے مؤقف میں تبدیلی کے بعد مطلوبہ اکثریت حاصل ہو گئی۔ فرانس کو خدشہ ہے کہ سستے گوشت، پولٹری اور چینی کی درآمد سے یورپی کسانوں کو نقصان پہنچے گا۔

فرانس، بیلجیم اور پولینڈ میں کسانوں نے معاہدے کے خلاف احتجاج کیا، جب کہ آسٹریا میں بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ آسٹریا کی پارلیمنٹ پہلے ہی معاہدے کے خلاف قرارداد منظور کر چکی تھی۔

ماحولیاتی تنظیموں اور گرین پارٹیوں نے معاہدے کو ماحول، جنگلات اور مقامی زراعت کے لیے خطرہ قرار دیا، جب کہ کاروباری حلقوں نے اسے یورپی معیشت کے لیے خوش آئند پیش رفت کہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: احتجاجی مظاہروں میں شدت، ایرانی حکام نے انٹرنیٹ سروس بند کردی

معاہدے کے تحت یورپی برآمدات پر لگ بھگ 4 ارب یورو کے ٹیرف ختم ہوں گے، 2024 میں 111 ارب یورو کی دو طرفہ تجارت میں مزید اضافہ متوقع ہے، حساس زرعی مصنوعات کے لیے حفاظتی شقیں شامل کی گئی ہیں اور بحران کی صورت میں درآمدات عارضی طور پر معطل کی جا سکیں گی۔ یورپی کمیشن کو عبوری تجارتی معاہدے کے تحت کسانوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا اختیار دیا گیا ہے۔

معاہدے پر آئندہ ہفتے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیئن کے دستخط متوقع ہیں۔ اس کے بعد یورپی پارلیمنٹ میں ووٹنگ ہوگی، جہاں منظوری اپریل یا مئی میں متوقع ہے۔ قبرص کے وزیر تجارت مائیکل دامیانوس کے مطابق یہ معاہدہ عالمی غیر یقینی صورتحال میں یورپ اور مرکوسور ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرے گا۔