عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق فرانس اس معاملے پر یورپی یونین کے رکن ممالک اور یورپین کمیشن کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے۔ فورسیئر نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو یورپی یونین کے پاس مناسب آلات موجود ہیں۔

خیال رہے کہ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے بعض سابقہ ٹیرف غیرقانونی قرار دیے جانے کے بعد عالمی سطح پر 10 فیصد فلیٹ ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔

رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے ممکنہ جواب میں نام نہاد ’ٹریڈ بزوکا‘ بھی شامل ہو سکتا ہے، جو دراصل اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ (اے سی آئی) ہے۔

اس کے تحت برآمدی کنٹرول، خدمات پر ٹیرف اور امریکی کمپنیوں کو یورپی یونین کے سرکاری خریداری معاہدوں سے خارج کرنے جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ یہ اقدام امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ یورپی یونین کے پاس 90 ارب یورو (تقریباً 106 ارب ڈالر) مالیت کی امریکی مصنوعات پر عائد کیے جانے والے جوابی ٹیرف کا ایک معطل پیکج بھی موجود ہے، جسے ضرورت پڑنے پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔

ادھر صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ انہوں نے تمام ممالک پر 10 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی ایک شق کے تحت عائد کیے گئے ہیں اور یہ پہلے سے عائد محصولات کے علاوہ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل پورا مشرقِ وسطیٰ حاصل کرلے تو اعتراض نہیں ہوگا، امریکی سفیر مائیک ہکابی

امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے اس بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ عدالت کی جانب سے غیرقانونی قرار دیے گئے ٹیرف کی وصولی کب بند کی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یورپی یونین نے جوابی اقدامات کیے تو یہ ٹرانس اٹلانٹک تجارتی تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کا آغاز ہو سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔