یورپی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ ایران کی اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کو بلاک کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے پر بھی سیاسی اتفاقِ رائے کے قریب ہیں۔
اگر یہ فیصلہ منظور ہو جاتا ہے تو پاسدارانِ انقلاب کو داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کے برابر قرار دیا جائے گا، جو ایران کی قیادت کے حوالے سے یورپ کے مؤقف میں ایک علامتی مگر اہم تبدیلی تصور کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ فرانس کی قیادت میں یورپی یونین کے بعض رکن ممالک طویل عرصے سے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد فہرست میں شامل کرنے کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔
پیرس نے بدھ کے روز اس اقدام کی حمایت کا اعلان کیا، جس کے بعد منظوری کی راہ ہموار ہو گئی ہے، اگرچہ اس فیصلے کے لیے یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک کی متفقہ منظوری درکار ہوگی۔
یاد رہے کہ پاسدارانِ انقلاب کا قیام 1979 کے ایرانی اسلامی انقلاب کے بعد عمل میں آیا تھا، جس کا مقصد شیعہ مذہبی نظامِ حکومت کا تحفظ تھا۔ یہ فورس ایران کی معیشت اور مسلح افواج کے بڑے حصے پر اثر و رسوخ رکھتی ہے اور ایران کے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام کی ذمہ داری بھی اسی کے پاس ہے۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جوہری معاہدہ کرے ورنہ اگلا حملہ پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے کہ مذاکرات کی صلاحیت ختم نہیں ہوئی، طاقت کا استعمال خطے میں افراتفری پیدا کر سکتا ہے اور نہایت خطرناک نتائج کا باعث بنے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، یورپ، امریکا اور روس کے درمیان سفارتی اور سیاسی تناؤ میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔







