یورپی یونین کونسل کے مطابق پابندیوں کا نشانہ بننے والوں میں شدت پسند اسرائیلی آبادکار اور وہ تنظیمیں شامل ہیں جو فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، جائیدادوں پر قبضے اور مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کے قیام میں ملوث ہیں۔

یورپی یونین نے نحالا سیٹلمنٹ موومنٹ اور اس کی سربراہ ڈینیئلا وائس کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ کونسل کے مطابق یہ تنظیم فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے اور متنازع بستیوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔

اسی طرح اسرائیلی این جی او  ریگاویم  اور اس کے ڈائریکٹر مئیر ڈوئچ پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم مغربی کنارے میں فلسطینی املاک کو گرانے اور اسرائیلی کنٹرول بڑھانے کے لیے قانونی اور سیاسی مہم چلاتی رہی، جب کہ اس نے بیت اللحم کے قریب ایک یورپی فنڈ سے تعمیر ہونے والے فلسطینی اسکول کو مسمار کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا۔

پابندیوں کی زد میں آنے والی ایک اور تنظیم  ہاشومر یوش  ہے، جس کے صدر آویخائی سوئیسا پر مغربی کنارے میں پرتشدد اسرائیلی چوکیوں اور بستیوں کی حمایت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق یہ تنظیم مسلح رضاکاروں کی بھرتی اور فلسطینیوں پر حملوں میں ملوث افراد کو معاونت فراہم کرتی رہی ہے۔

اس کے علاوہ  امانا  نامی کوآپریٹو ایسوسی ایشن، جو آبادکار تحریک  گش ایمونیم  سے منسلک ہے، پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

یورپی یونین کے مطابق یہ تنظیم کم از کم 30 متنازع اور پرتشدد چوکیوں اور بستیوں کے قیام، مالی معاونت اور توسیع میں کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہے۔

یورپی یونین نے کہا ہے کہ ان پابندیوں کے تحت متعلقہ افراد اور تنظیموں کے اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے، جب کہ ان افراد پر سفری پابندیاں بھی نافذ ہوں گی۔

یاد رہے کہ یورپی یونین نے 2020 میں عالمی انسانی حقوق پابندیوں کا نظام متعارف کرایا تھا، جس کے تحت نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور دیگر سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

یورپی کونسل اس سے قبل بھی مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع کی سخت مذمت کر چکی ہے۔