چین میں اس ہفتے نافذ ہونے والے اس قانون کے تحت حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ملک سے باہر موجود ایسے افراد یا گروہوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کر سکے جن پر "نسلی اتحاد کو نقصان پہنچانے یا علیحدگی پسندی پر اکسانے" کا الزام ہو۔
EU concerned by China s new ethnic unity law which targets people overseas https://t.co/o4N662XDz3
— The Straits Times (@straits_times) July 2, 2026
یورپی یونین کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ چین کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات اور اقوام متحدہ کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے نسلی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ یورپی یونین کسی بھی ملک کی جانب سے اپنے قوانین کا بین الاقوامی سرحدوں سے باہر اطلاق کرنے کی مخالفت کرتی ہے اور ایسے اقدامات کو بین الاقوامی قانون کے خلاف سمجھتی ہے۔
چین نے یہ قانون مارچ میں منظور کیا تھا جس کا مقصد ملک کے 55 نسلی اقلیتی گروہوں، جن میں تبتی اور اویغور بھی شامل ہیں، کے درمیان ایک مشترکہ قومی شناخت کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔
دوسری جانب چین کے ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے گزشتہ ہفتے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو بیرون ملک موجود ایسے افراد کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے جو چینی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اور یہ اقدام بین الاقوامی قانونی روایات کے مطابق ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سے قبل بھی الزام عائد کر چکی ہیں کہ چین سیاسی مخالفین کے خلاف انٹرپول کے ریڈ نوٹسز اور دیگر بین الاقوامی ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے 2020 الیکشن کی خفیہ فائلیں کھولنے کی اجازت دے دی
ادھر تائیوان نے بھی نئے قانون پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ اسے تائیوان کے حامیوں اور مبینہ علیحدگی پسندوں کے خلاف ایک نئے قانونی ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ تائیوان کی مین لینڈ افیئرز کونسل نے اعلان کیا کہ وہ چین کی مبینہ دھمکیوں اور بین الاقوامی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم خیال ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔
چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان کی حکومت ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ چینی قوانین کا اس کی سرزمین پر کوئی قانونی اختیار نہیں۔







