نیتن یاہو نے کہا کہ حماس کے پاس اس معاہدے کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کیا جائے گا، سفارتی حل ہو یا ہماری فوجی طاقت سے حماس غیر مسلح ہوگی، امریکا کو بتا دیا ہے حماس کو غیر مسلح کرنا ہےاور ہمیں یہ کام کرنا ہے۔
نیتن یاہو کے اس بیان سے امکان ظاہر ہوتا ہے کہ اگر حماس نے جنگ بندی معاہدہ قبول نہ کیا تو اسرائیلی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دی جائیں گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امن معاہدے، یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیلی بمباری کی عارضی بندش قابل تعریف ہے، حماس تیزی دکھائے ورنہ تمام شرائط ختم ہو جائیں گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ حماس کی جانب سے تاخیر برداشت نہیں کروں گا، یہ سب کچھ جلدی کیا جائے تاکہ سب کے ساتھ انصاف ہو سکے۔
واضح رہے کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 نکاتی غزہ امن منصوبہ بڑی حد تک قبول کرلیا ہے۔
البتہ حماس نے ٹرمپ منصوبے کے بعض نکات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئرکا مجوزہ کردار مستردکردیا۔
مصری میڈیا کے مطابق حماس اور اسرائیل کے درمیان بلواسطہ مذاکرات اتوار اور پیر کو ہوں گے، بات چیت میں ٹرمپ منصوبے کے تحت تمام یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق تفصیلات طے ہوں گی۔
یاد رہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملے اب بھی جاری ہیں، 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فوجی حملوں میں مزید 66 فلسطینی شہید اور 265 زخمی ہوئے ہیں۔






