خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ظہران ممدانی نے اپنے دونوں حریفوں پر واضح برتری حاصل کی۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق ظہران ممدانی نے 50.3 فیصد یعنی 10 لاکھ 24 ہزار 794 ووٹ حاصل کیے، اینڈریو کومو 8 لاکھ 47 ہزار 200 ووٹ (41.6 فیصد) کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے جبکہ کرٹس سلوا ایک لاکھ 45 ہزار 360 ووٹ (7.1 فیصد) لے کر تیسرے نمبر پر آئے۔

نیو یارک بورڈ آف الیکشن کے مطابق 20 لاکھ سے زائد شہریوں نے ووٹ ڈالا جو گزشتہ 50 برسوں میں میئر کے انتخاب میں ووٹنگ کی سب سے زیادہ شرح ہے۔

یاد رہے کہ جون میں ڈیموکریٹک پارٹی کی پرائمری میں ظہران ممدانی نے سابق گورنر اینڈریو کومو کو حیران کن شکست دی تھی، جس کے بعد انہیں نومبر کے عام انتخابات کے لیے پارٹی کا باضابطہ امیدوار نامزد کیا گیا۔

ظہران ممدانی کا بطور میئر انتخاب نہ صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ نیویارک کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوا ہے۔ وہ شہر کے پہلے مسلمان اور جنوبی ایشیائی نژاد میئر بن گئے ہیں جو افریقہ میں پیدا ہوئے۔

یکم جنوری کو عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ ایک صدی سے زائد عرصے میں نیویارک کے سب سے کم عمر میئر ہوں گے۔

ظہران ممدانی یوگینڈا میں پیدا ہوئے، ابتدائی بچپن وہیں گزارا، اور سات سال کی عمر میں والدین کے ہمراہ امریکا منتقل ہو گئے۔ وہ 2018 میں امریکی شہری بنے۔

انڈین نژاد امریکی سیاستدان ممدانی نے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری الیکشن میں ایک نئے چہرے کے طور پر حصہ لیا اور صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو مسترد کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ وہ نیویارک کے علاقے کوئنز سے ریاستی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہو چکے ہیں، جہاں انہیں سینیٹر برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسے ترقی پسند رہنماؤں کی حمایت حاصل تھی۔

پرائمری مہم کے دوران اینڈریو کومو نے ممدانی کو ناتجربہ کار قرار دیا تھا، جب کہ ممدانی نے ان پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔

سال 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں اینڈریو کومو صدر کے سخت ناقد کے طور پر ابھرے تھے اور انہیں سابق صدر بل کلنٹن اور نیویارک کے سابق میئر مائیکل بلومبرگ کی حمایت بھی حاصل تھی۔

انتخابی مہم میں دونوں امیدواروں کے درمیان نمایاں فرق رہا۔ اینڈریو کومو کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی جبکہ ظہران ممدانی نے خود کو ترقی پسند اور تبدیلی کی علامت کے طور پر پیش کیا۔