عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی غزہ میں پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب دونوں بچے ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلے۔

 خاندان کے مطابق جمعہ اور فادی اپنے زخمی والد کے لیے آگ جلانا چاہتے تھے تاکہ انہیں سردی سے بچایا جا سکے، اسی مقصد کے لیے وہ لکڑیاں جمع کرنے گئے تھے۔

دوسری جانب ظالم اسرائیلی فوج نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا  کہ خان یونس کے علاقے بنی سہیلہ میں دو مشکوک افراد کو یلو لائن عبور کرتے دیکھا گیا تھا۔

فوج کے بیان کے مطابق دونوں افراد زمین پر کوئی مشکوک سرگرمی میں ملوث دکھائی دے رہے تھے اور اس انداز میں فوجی اہلکاروں کے قریب آرہے تھے جو اُن کے بقول فوری خطرے کا باعث بن سکتا تھا۔ اسی بنیاد پر فضائی نگرانی پر مامور یونٹ نے دونوں کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے باوجود شہریوں کو متعدد بار خبردار کیا جاچکا ہے کہ وہ غزہ میں موجود اسرائیلی پوزیشنز کے قریب نہ جائیں۔

 فوج کا کہنا ہے کہ یلو لائن کے ساتھ فزیکل مارکر بھی نصب کیے جارہے ہیں، جب کہ اس کے لیے ایک آن لائن نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

تاہم ضعیف افراد، خواتین اور خاص طور پر بچے ان نشانات اور حدود کو پہچان نہیں پاتے، جس کے باعث وہ آئے روز اسرائیلی نشانے پر آجاتے ہیں۔

یاد رہے کہ دو روز قبل بھی اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے ہاتھ اٹھا کر عمارت سے باہر آنے والے دو فلسطینی نوجوانوں کو تلاشی کے بعد بھی گولیوں سے بھون دیا تھا، جس پر عالمی سطح پر شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا تھا۔ بین الاقوامی دباؤ کے باعث اسرائیلی حکومت نے اس واقعے کی انکوائری کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب عالمی ردعمل اور شدید تنقید کے باوجود آج ایک اور ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ غزہ میں دو معصوم بچوں کی شہادت نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا ہے کہ یہ جنگی جرائم اب بھی جاری ہیں اور ان کا نشانہ سب سے زیادہ کمزور اور بے گناہ شہری بن رہے ہیں۔