عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر زیلنسکی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن منصوبہ ابھی تک پڑھ ہی نہیں سکے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ روس تو منصوبے پر راضی ہے، مگر زیلنسکی نہیں۔ ادھر یورپی رہنماؤں نے لندن آمد پر واضح کیا کہ وہ یوکرین پر کسی غیر منصفانہ امن منصوبے کو مسلط نہیں ہونے دیں گے۔

وزیراعظم اسٹارمر نے کہا کہ ہم ایک منصفانہ اور دیرپا جنگ بندی چاہتے ہیں۔ جرمن چانسلر مرٹس نے امریکی منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی نکات پر سنجیدہ بات چیت کی ضرورت ہے۔

امریکی امن منصوبے کی سب سے متنازع شق یہ ہے کہ یوکرین ڈونباس خطہ روس کو دے دے۔ کیف اور یورپی اتحادی اس تجویز کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ہم نہ اپنی زمین دے سکتے ہیں، نہ دفاع کمزور کر سکتے ہیں۔

لندن مذاکرات کے بعد فرانسیسی ایوان صدر نے کہا کہ یورپی ممالک امریکی منصوبے میں اپنی تجاویز شامل کر کے اسے یوکرین کے لیے قابلِ قبول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یورپی یونین یوکرین کی طویل مدتی سیکورٹی، دفاعی فنڈنگ، فضائی دفاع اور تعمیر نو کے منصوبوں پر بھی غور کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی رہنماؤں کا امریکی قومی سلامتی حکمتِ عملی پر شدید ردِعمل،  امریکا اپنے سیکیورٹی شیڈ کے ممکنہ خاتمے پر غور کر سکتا ہے 

حالیہ امریکی قومی سلامتی حکمتِ عملی میں یورپ پر کڑی تنقید نے اتحادیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دستاویز میں یورپ کو تاریخی زوال اور مہاجرین کے دباؤ سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب روس نے امریکی حکمتِ عملی کو "قابلِ قبول" قرار دیا ہے۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ روس نے 149 ڈرون داغے جن میں سے 131 مار گرائے گئے۔ روس نے بھی دعویٰ کیا کہ اس نے 67 یوکرینی ڈرون تباہ کیے۔