ایک مقامی نیوز آؤٹ لیٹ کو دیے گئے انٹرویو میں یاسر شاہ نے بتایا میں اس سال ڈومیسٹک کرکٹ نہیں کھیل رہا، ان شاء اللہ پی سی بی سے ملاقات کے بعد حتمی فیصلہ کروں گا۔

موجودہ پاکستانی ٹیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے یاسر شاہ نے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ٹیم اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے آخری دو ٹی ٹوئنٹی میچ جیتے ہیں، ہماری دعائیں ہمیشہ ٹیم کے ساتھ ہیں۔

وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کی ون ڈے کپتانی سے ہٹائے جانے پر یاسر شاہ نے ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ خود بھی سلیکشن سے باہر رہنے کے تجربے سے گزر چکے ہیں۔

یاسر شاہ کا کہنا تھا کہ بطور کھلاڑی ہماری کوشش ہمیشہ پاکستان کے لیے پرفارم کرنے کی ہوتی ہے، رضوان بھی یہی کر رہے ہیں۔ سلیکٹرز جسے بھی کپتان منتخب کریں، پوری ٹیم کو اس کا ساتھ دینا چاہیے۔

یاسر شاہ نے قومی ٹیم سے اپنی غیر موجودگی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارکردگی کی وجہ سے نہیں بلکہ فٹنس کے خدشات کے باعث تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ میری پرفارمنس اچھی تھی، لیکن انھوں نے سمجھا کہ گھٹنے کی پرانی انجری واپس آگئی ہے۔ میں نے کہا کہ اگر فٹنس کا مسئلہ ہے تو فٹنس ٹیسٹ کرایا جائے۔ تاہم، سرکاری طور پر کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

واضح رہے کہ پاکستان کے کامیاب ترین ٹیسٹ باؤلرز میں شمار ہونے والے یاسر شاہ نے 48 ٹیسٹ میچوں 31.38 کی اوسط سے 244 وکٹیں حاصل کیں ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں وہ خاص طور پر شاندار کارکردگی دکھاتے رہے، جہاں انہوں نے 24.56 کی اوسط سے 116 وکٹیں حاصل کیں۔

یاسر شاہ نے آخری بار پاکستان کی نمائندگی 2022 میں سری لنکا کے خلاف گال ٹیسٹ میں کی تھی۔ ان کا آخری ون ڈے 2019 میں انگلینڈ کے خلاف ساؤتھمپٹن میں کھیلا گیا۔

یاد رہے کہ وہ صرف 33 میچوں میں 200 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے والے دنیا کے تیز ترین باؤلر ہونے کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔

اگرچہ یاسر کا وائٹ بال کیریئر اتنا نمایاں نہیں رہا، انہوں نے 25 ون ڈے میچوں میں 24 وکٹیں اور دو ٹی ٹوئنٹی میچوں میں کوئی وکٹ حاصل نہیں کی، مگر ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا نام پاکستان کے کامیاب ترین اسپنرز میں شامل ہے۔

یاسر شاہ کے ممکنہ ریٹائرمنٹ کے اشارے نے پاکستانی شائقین کرکٹ میں ماضی کی سنہری کارکردگیوں کی یاد تازہ کر دی ہے، خصوصاً وہ لمحات جب ان کی خطرناک اسپن نے دنیا کی بہترین بیٹنگ لائن اپس کو مشکلات میں ڈالا تھا۔