عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق غزہ شہر کے شیخ رضوان کے علاقے میں کبھی زندگی سے بھرپور محلہ تھا، مگر اب وہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ بارش کے پانی کے لیے بنائی گئی جھیل اب سیوریج اور ملبے سے بھری ہوئی ہے اور درجنوں بے گھر خاندانوں کے لیے یہی پناہ گاہ اور خطرہ دونوں بن گئی ہے۔

ام ہشام، جو حاملہ ہیں، اپنے بچوں کے ہمراہ بدبودار پانی میں چلنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہاں پناہ لی ہے مگر مچھروں، گندگی اور بڑھتے پانی کی سطح سے زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ ہر طرف تباہی ہے اور یہ سب ہماری جانوں کے لیے خطرہ ہے۔

بلدیاتی حکام کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں پانی کے پمپ تباہ ہونے کے بعد گندا پانی جھیل میں جمع ہو گیا ہے جو اب چھ میٹر سے زیادہ بلند ہو چکا ہے۔ باڑھ ٹوٹ چکی ہے اور کسی بھی وقت کوئی بچہ، عورت یا گاڑی اس میں گر سکتی ہے۔

غزہ سٹی کے میونسپل افسر ماہر سالم نے بتایا کہ بدبو، مچھر اور گندا پانی لوگوں کی زندگیوں کے لیے شدید خطرہ ہیں، مگر ہمارے پاس وسائل نہیں کہ اس صورتحال کو قابو کیا جا سکے۔

الجزیرہ کے نامہ نگار ہانی محمود کے مطابق غزہ میں لوگ جانتے ہیں کہ کنوؤں اور ٹینکروں سے ملنے والا پانی آلودہ ہے، مگر ان کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں۔


اسی دوران برازیل میں ہونے والی COP30 ماحولیاتی کانفرنس میں فلسطینی سفیر ابراہیم الزیبن نے صورتحال کو “نسل کشی سے جڑی ماحولیاتی تباہی” قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت نے غزہ میں 61 ملین ٹن سے زائد ملبہ پیدا کیا، جس میں خطرناک مادے بھی شامل ہیں۔ پانی اور سیوریج کے نظام کی تباہی نے زمینی اور ساحلی پانیوں کو آلودہ کر دیا ہے، جس سے صحت عامہ کے سنگین خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

فلسطینی سفیر نے مزید بتایا کہ اسرائیلی حملوں نے غزہ کی زرعی زمین کو تباہ کر کے علاقے کو قحط اور غذائی بحران میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں اب خوراک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: گلیمر وومن آف دی ایئر ایوارڈ، بچوں کی تصویروں سے سجے مس ریچل کے لباس نے غزہ کی مختلف کہانیاں بیان کردیں

اقوام متحدہ کی ماحولیاتی ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ میں تازہ پانی کی فراہمی شدید متاثر ہو چکی ہے اور بیشتر زیرِ زمین پانی اب آلودہ ہو چکا ہے۔

شیخ رضوان کے علاقے میں اب ہوا بدبو سے بھری ہوئی ہے اور لوگ مایوسی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔