غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق لاوروف نے بتایا کہ صدر پیوٹن کی جانب سے 5 نومبر کو ہونے والے سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع، خفیہ اداروں اور دیگر ایجنسیوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ اگر امریکا جوہری تجربات پر عائد پابندی سے پیچھے ہٹتا ہے تو روس بھی اس حوالے سے تیاری کرے۔

سرگئی لاوروف نے روسی نیوز ایجنسی تاس اور ریا نووستی سے گفتگو میں کہا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن کی ہدایت کو عملدرآمد کے لیے منظور کر لیا گیا ہے اور اس پر کام جاری ہے، عوام کو نتائج سے آگاہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک ہمیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کے بیان پر واشنگٹن سے کوئی باضابطہ وضاحت موصول نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ پیوٹن نے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں کہا تھا کہ روس صرف اسی صورت میں جوہری تجربات دوبارہ شروع کرے گا جب امریکا پہل کرے گا۔

یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دہائیوں بعد امریکا کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکی جوہری تجربات کے اعلان پر روس کا ردِعمل، پیوٹن نے ممکنہ ایٹمی تجربے کی تیاری کے لیے تجاویز طلب کر لیں

ٹرمپ نے 30 اکتوبر کو چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل کہا تھا کہ ہم روس اور چین کے ساتھ برابری کی بنیاد پر جوہری تجربات کریں گے۔

یاد رہے کہ امریکا نے 1992 کے بعد سے کوئی جوہری دھماکہ نہیں کیا اور رضاکارانہ طور پر اس پر پابندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ اس عرصے میں صرف شمالی کوریا نے باضابطہ جوہری تجربات کیے ہیں، جب کہ بعض رپورٹس کے مطابق چین نے خفیہ طور پر محدود پیمانے پر تجربات کیے ہیں۔