سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے وفاقی وزارتوں، سرکاری اداروں، صوبائی حکومتوں اور سینئر سیکرٹریوں کے تعاون کو سراہا، جنہوں نے حکومتی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے دوسرے جائزے کی کامیاب تکمیل میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ توسیعی فنڈ سہولت کے دوسرے جائزے کی تکمیل سے پاکستان کو تقریباً 1 ارب ڈالر، جب کہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے پہلے جائزے سے مزید 200 ملین ڈالر تک رسائی حاصل ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے سیلاب کی تباہ کاریوں کے باوجود پروگرام پر مضبوط عمل درآمد برقرار رکھا، جس سے ملکی مالیاتی اور بیرونی شعبے کی صورتحال بہتر ہوئی۔
آئی ایم ایف نے پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کردیا، مہنگائی قابو میں رکھنے کیلئے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے قرض پروگرام آن ٹریک رکھنے کیلئے مزید اصلاحات کی یقین دہانی کرادی۔
— SAMAA TV (@SAMAATV) December 9, 2025
رپورٹ کے مطابق اگلے مالی سال کا بجٹ بھی آئی ایم ایف کی شرائط کے… pic.twitter.com/PBeQrwdOoD
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستان کو سیلاب کے دوران فوری ریسکیو یا ریلیف سپورٹ کے لیے کوئی عالمی اپیل نہیں کرنا پڑی، جو ملک کی معاشی لچک کا ثبوت ہے۔
انہوں نے اس کامیابی کا سہرا حکومت کی جانب سے محفوظ کیے گئے مالیاتی اور بیرونی بفرز کو دیا جنہوں نے پاکستان کو بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر معاشی نظم و نسق اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی نے استحکام کے سفر کو مضبوط بنایا ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے جائزے نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ پاکستان کسی بڑے بحران کی صورت میں فوری بین الاقوامی امداد کے بغیر حالات کا مقابلہ کر سکتا ہے، جو ملک کی بہتر مالی اور بیرونی پوزیشن کا ثبوت ہے۔
انہوں نے اس پیش رفت کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی منظوری پاکستان کی معاشی حکمتِ عملی پر عالمی اعتماد کی علامت ہے اور یہ سلسلہ مستقبل میں مزید استحکام کی بنیاد رکھے گا۔







