عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ملزم کے وکیل نے کہا کہ صوفیہ سٹی کورٹ نے یہ مؤقف اپنایا کہ لبنان اس بات کی مناسب یقین دہانی کرانے میں ناکام رہا کہ گریچوشکن کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ عدالت کی کارروائی میڈیا کے لیے بند رہی۔

یہ فیصلہ سات دن میں اپیل کے لیے چیلنج کیا جا سکتا ہے، جب کہ ملزم اپیل کے فیصلے تک زیرِ حراست رہے گا۔ بلغاریہ کے پراسیکیوٹر نے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کی اعلیٰ سطح کی یقین دہانیوں کے بعد حوالگی کے تمام قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں۔

لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کا سبب وہ آگ تھی جو بندرگاہ کے ایک گودام میں لگی، جہاں 3 ہزار ٹن کے قریب امونیم نائٹریٹ برسوں سے بغیر حفاظتی اقدامات کے پڑا ہوا تھا۔

دھماکے کو پانچ سال سے زائد گزر چکے ہیں لیکن لبنان میں آج تک کوئی سینئر عہدیدار ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔ متاثرین کے لواحقین کا الزام ہے کہ سیاسی قیادت تحقیقات کو روک رہی ہے تاکہ بااثر شخصیات کی گرفت سے بچایا جا سکے۔

تحقیقات کے پہلے جج کو اعلیٰ حکام پر فردِ جرم عائد کرنے پر ہٹا دیا گیا، جب کہ موجودہ تفتیشی جج طارق بیتار بھی وزرا کو طلب کرنے کے بعد شدید سیاسی دباؤ کا شکار رہے۔ بیتار نے رواں سال دوبارہ تحقیقات شروع کی ہیں تاہم ابھی تک ابتدائی رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔

دھماکے سے 15 ارب ڈالر کے لگ بھگ نقصان ہوا، جب کہ 3 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے، جس سے لبنان کا پہلے سے موجود معاشی بحران مزید سنگین ہوگیا۔ رواں ماہ پوپ لیو چہار دہم نے لبنان کے دورے کے دوران دھماکے کے مقام پر جا کر خاموشی سے دعا کی اور متاثرین کی یادگار پر چراغ روشن کیا۔

مزید پڑھیں: آر ایس ایف کی صحافت سے متعلق سالانہ رپورٹ؛ دنیا بھر میں 67 صحافی قتل، 500 سے زائد قید اور سینکڑوں لاپتہ

خیال رہے کہ گریچوشکن روسی نژاد قبرصی شہری اور اُس بحری جہاز ’روسس‘ کا سابق مالک ہے، جس پر وہ امونیم نائٹریٹ لدا ہوا تھا جو 4 اگست 2020 کو بیروت کی بندرگاہ پر پھٹا اور تباہی کا باعث بنا۔ دھماکے میں 218 افراد جاں بحق، 6 ہزار سے زائد زخمی، جب کہ شہر کے بڑے حصے تباہ ہوگئے تھے۔

یہ دنیا کے سب سے بڑے غیر ایٹمی دھماکوں میں سے ایک تھا، جس کے جھٹکے 3.3 شدت کے زلزلے کے برابر ریکارڈ ہوئے اور شام، اسرائیل اور قبرص تک محسوس کیے گئے۔ گریچوشکن کو ستمبر میں بلغاریہ میں انٹرپول نوٹس پر گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تب سے حوالگی کی کارروائی کا سامنا کر رہا ہے۔