دسمبر 2022 میں فیض حمید نے فوج سے ریٹائرمنٹ لی، اور اس کے بعد شکایات سامنے آئیں کہ جنرل فیض نے طاقت کا استعمال اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے کیا۔ ان پر سیاسی معاملات میں مداخلت، اختیارات کا غلط استعمال اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی کے الزامات لگے۔
12 اگست 2024 کو ان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع ہوئی، جو 15 ماہ تک جاری رہی۔ بالآخر 11 دسمبر 2025 کو فیصلہ آیا، جس کے تحت فیض حمید کو 14 سال کی سخت قید کی سزا سنا دی گئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو فوجی عدالت نے اتنی سخت سزا دی۔
پاکستان کی فوج میں اس سے پہلے بھی کئی ایسے جرنیل اور اعلیٰ افسران کو سزا مل چکی ہے، جنہوں نے فوجی ضابطوں کی خلاف ورزی کی یا ملکی سلامتی کے خلاف اقدامات کیے۔
1995 میں ایک خفیہ سازش کے تحت، آپریشن خلافت کا انکشاف ہوا تھا جس میں میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی اور دیگر افسران نے حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ان افسران کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں سزا دی گئی۔ میجر جنرل عباسی کو 7 سال قید کی سزا ہوئی، اور دیگر افسران کو بھی مختلف سزائیں ملیں۔
2012 میں بریگیڈیئر علی خان کو غیر ریاستی تنظیموں سے روابط اور حساس معلومات افشاء کرنے کے الزام میں 5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
2020 میں لیفٹیننٹ کرنل (ر) شاہد بشیر کو ممنوعہ تنظیموں سے تعلق اور ملٹری سیکرٹ کی خلاف ورزی کے جرم میں 3 سال قید کی سزا ہوئی۔
2023 میں میجر (ر) عدیل راجہ اور کیپٹن (ر) حیدر رضا مہدی کو فوج کے خلاف نفرت انگیزی، بغاوت پر اکسانا اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے جرم میں 14 اور 12 سال کی قید سنائی گئی۔
پاکستان میں فوجی افسران کے خلاف مقدمات پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت چلائے جاتے ہیں، جس کے مطابق فوجی عدالتیں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل جیسے عدالتی اداروں کو استعمال کرتی ہیں۔ یہ عدالتیں صرف فوجی اہلکاروں کے خلاف ان مقدمات کو سنبھالتی ہیں جن میں ریاست کے خلاف سازش، بغاوت، جاسوسی یا فوجی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیاں شامل ہوں۔
یہ مقدمات عام عدالتوں کی طرح کھلے عام نہیں چلائے جاتے، بلکہ اکثر خفیہ کارروائیوں کے تحت فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ان فیصلوں کا مقصد یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ طاقتور افراد بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہیں۔
فیض حمید کا کیس اور ماضی کے دیگر فیصلے ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ حالیہ فیصلے نے یہ ثابت کر دیا کہ فوجی قیادت کو بھی اگر قوانین کی خلاف ورزی کی جاتی ہے، تو انہیں بھی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔







