سال 2025 کے دوران بی وائے ڈی نے 22 لاکھ 50 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں فروخت کیں، جب کہ امریکی کمپنی ٹیسلا گزشتہ سال تقریباً 16 لاکھ بیٹری سے چلنے والی گاڑیاں ہی فروخت کر سکی۔
رپورٹس کے مطابق ٹیسلا کو ایک جانب ایلون مسک کی سیاسی سرگرمیوں کے باعث تنقید اور دباؤ کا سامنا رہا، جب کہ دوسری جانب چینی حریف بی وائے ڈی کی جانب سے سخت مسابقت نے بھی کمپنی کی فروخت کو متاثر کیا۔
بی وائے ڈی دنیا کی بڑی الیکٹرک وہیکل کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، جو نہ صرف الیکٹرک گاڑیاں بلکہ جدید بیٹری ٹیکنالوجی، بسیں اور توانائی کے جدید حل بھی تیار کرتی ہے۔
Tesla loses spot as world’s top EV seller to Chinese rival after car deliveries plunge 9% in 2025 https://t.co/dDOD4ZJqt8 pic.twitter.com/ukXO6UpcsE
— New York Post (@nypost) January 2, 2026
کمپنی اپنی مناسب قیمت، جدید بیٹری سسٹمز اور مضبوط پیداواری صلاحیت کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیزی سے جگہ بنا رہی ہے، جس کے نتیجے میں وہ ٹیسلا سمیت دیگر عالمی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔






