یہ پیش رفت اس لیے بھی توجہ کا مرکز بن گئی ہے کہ ’پاورس‘ ایک نسبتاً نئی امریکی کمپنی ہے، لیکن اس کے پاس ڈرون، انسدادِ ڈرون نظام، بھاری وزن اٹھانے والے خودکار طیاروں اور سمندری خودکار نظام سمیت دفاعی ٹیکنالوجی کا تیزی سے پھیلتا ہوا پورٹ فولیو موجود ہے۔

کمپنی کے مطابق پاکستان کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت مستقبل میں بغیر پائلٹ اور خودکار دفاعی ٹیکنالوجی میں مزید تعاون کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتی ہے۔

اصل معاہدہ کیا ہوا؟

’پاورس‘ کے مطابق پاکستان کی وزارتِ دفاع نے کمپنی کو یو اے ایس اور ان سے متعلق معاونت کے لیے ایک محدود ابتدائی خریداری کا آرڈر دیا ہے۔ تاہم آرڈر کی تعداد، مالیت، ڈرون کا مخصوص ماڈل اور دیگر تکنیکی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

اس کے علاوہ پاکستان اور ’پاورس‘ کے درمیان ایک الگ اسٹریٹجک مفاہمتی یادداشت بھی طے پایا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ یادداشت بغیر پائلٹ اور خودکار دفاعی ٹیکنالوجی میں مستقبل کے ممکنہ تعاون، اضافی شعبوں کی تلاش اور ’پاورس‘ کے نظام کے ممکنہ استعمال کے لیے فریم ورک فراہم کرتی ہے۔

’پاورس‘ نے واضح کیا ہے کہ یہ مفاہمتی یادداشت حتمی خریداری کا معاہدہ نہیں اور اس کے تحت مستقبل کی کسی خریداری کی لازمی پابندی پیدا نہیں ہوتی۔ آئندہ کسی بھی پروگرام یا دفاعی خریداری کے لیے الگ حتمی معاہدے اور متعلقہ امریکی و پاکستانی حکومتی منظوری درکار ہوگی۔

’پاورس‘ کمپنی اصل میں ہے کیا؟

’پاورس‘ دراصل آٹونومس پاور کارپوریشن کے نام سے قائم ہونے والی امریکی دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی ہے، جو ’پاورس‘ کے نام سے کام کرتی ہے۔ کمپنی اکتوبر 2025 میں تشکیل دی گئی اور اس کا بنیادی فوکس خودکار اور بغیر پائلٹ نظام تیار کرنا اور مختلف موجودہ ٹیکنالوجیز کو ایک مربوط پلیٹ فارم میں شامل کرنا ہے۔

کمپنی کے موجودہ کاروبار میں بھاری وزن اٹھانے والے خودکار فضائی نظام، ٹیکٹیکل ڈرونز، انسدادِ ڈرون نظام، سمندری خودکار پلیٹ فارمز اور مختلف خودکار مشن سسٹمز شامل ہیں۔ ’پاورس‘ نے 2026 میں کائزن ایرو اسپیس، ایجائل آٹونومی اور پاورس ڈیفنس سمیت مختلف کمپنیوں اور کاروباری یونٹس کو اپنے پلیٹ فارم میں شامل کیا، جس سے اس کی صلاحیتیں صرف ایک ڈرون ماڈل تک محدود نہیں رہیں۔

پاورس کے پیچھے کون لوگ ہیں؟

پاورس کی بنیاد سابق امریکی اسپیشل آپریشنز سے وابستہ افراد نے رکھی۔ کمپنی کے شریک بانی بریٹ ویلیکووچ سابق امریکی فوجی اسپیشل آپریشنز اہلکار ہیں، جب کہ اینڈریو فاکس کمپنی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ہیں۔

کمپنی اپنے تجربے کو جنگی ماحول میں ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال سے جوڑتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کی مصنوعات میں ایسی ٹیکنالوجی شامل کی جا رہی ہے جسے حقیقی تنازعات اور آپریشنل ماحول کے تجربات کی بنیاد پر تیار کیا گیا۔

ٹرمپ خاندان کا پاورس سے کیا تعلق ہے؟

پاورس کی حالیہ شناخت کا ایک اہم پہلو اس کا ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ سے بالواسطہ کاروباری تعلق بھی ہے۔

پاورس نے امریکی کمپنی اوریس گرین وے ہولڈنگز کے ساتھ انضمام کا معاہدہ کیا ہے۔ امریکی ریگولیٹری دستاویزات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ جونیئراور ایرک ٹرمپ کی سرمایہ کاری کمپنی امریکن وینچرز اس مجوزہ مشترکہ کمپنی میں سرمایہ کار ہے۔

پاورس کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ خاندان کے افراد کمپنی کے روزمرہ انتظام، آپریشنز یا دفاعی معاہدوں کی خریداری و مذاکرات میں شامل نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ وہ ایک غیر فعال سرمایہ کار ہیں اور پاکستان کے معاہدے سے قبل انہیں اس معاہدے کا علم نہیں تھا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی کہا گیا کہ اس معاملے میں کوئی مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے۔

پاورس کا پاکستان سے پہلے بھی کوئی تعلق تھا؟

دستیاب عوامی ریکارڈ کے مطابق پاکستان اور پاورس کے درمیان اس حالیہ معاہدے سے پہلے کسی بڑے دفاعی یا ڈرون معاہدے کا واضح ریکارڈ سامنے نہیں آتا، کیونکہ یہ کمپنی خود اکتوبر 2025 میں قائم ہوئی تھی۔

16 ستمبر 2026 کو اس کی ایک وفد نے پہلی مرتبہ عوامی طور پر پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات کی، جہاں دفاعی خریداری، پیداوار اور طویل مدتی صلاحیت سازی پر بات ہوئی۔

اسی ملاقات کے بعد کمپنی نے موجودہ معاہدے اور ابتدائی آرڈر کی تصدیق کی یعنی پاورس کے ساتھ پاک فوج کا یہ تعلق نیا ہے، البتہ پاکستان کا ڈرون ٹیکنالوجی کے ساتھ تعلق کئی دہائیوں پرانا ہے۔

پاکستان پہلے ڈرون کہاں سے لیتا رہا ہے؟

پاکستان نے گزشتہ برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کے لیے ایک ہی ملک پر مکمل انحصار نہیں کیا بلکہ مقامی ترقی، چین اور دیگر ممالک سے حاصل کردہ نظام سمیت مختلف ذرائع استعمال کیے ہیں۔

پاکستان نے مقامی طور پر براک اور شاہپر جیسے بغیر پائلٹ نظام تیار کیے۔ براک کو نیسکام اور پاکستان ایئر فورس کے تعاون سے تیار کیا گیا، جب کہ شاہپر خاندان پاکستانی دفاعی صنعت کا مقامی یواےوی پروگرام ہے اور اسے پاکستان کی مسلح افواج استعمال کرتی رہی ہیں۔

چین بھی پاکستان کے ڈرون ایکو سسٹم کا اہم حصہ رہا ہے۔ پاکستان نے چینی ساختہ سی ایچ-4 اور ونگ لانگ خاندان کے ڈرونز بھی استعمال کیے ہیں، جب کہ چین اور پاکستان کے درمیان بڑے بغیر پائلٹ نظام کی مشترکہ پیداوار کے منصوبوں کی بھی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔

پاکستان نے ترکیہ کی ڈرون ٹیکنالوجی بھی اپنے دفاعی نظام میں شامل کی ہے، جب کہ مقامی سطح پر تیار کردہ شاہپر اور دیگر نظام نے ملک کے اپنے ڈرون پروگرام کو وسعت دی ہے۔

اس پس منظر میں پاورس کا معاہدہ صرف ایک اور ڈرون خریداری نہیں بلکہ پاکستان کے ڈرون ذرائع کو مزید متنوع بنانے اور امریکی دفاعی ٹیکنالوجی کے ساتھ نئے تعلق کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، اگرچہ اس تعاون کی عملی وسعت آنے والے حتمی معاہدوں سے واضح ہوگی۔

پاورس نے امریکا میں کس کو کیا دیا؟

پاورس کا کاروبار صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ کمپنی نے امریکا میں گارڈین-1 کے نام سے کم لاگت کا انسدادِ ڈرون انٹرسیپٹر تیار کیا ہے، جس کا مقصد شاہد-136 جیسے یک طرفہ حملہ آور ڈرونز کو روکنا ہے۔

کمپنی کے مطابق گارڈین-1 کی امریکی فوجی اہلکاروں کے ساتھ بڑے پیمانے کی تربیتی مشقوں میں آزمائش بھی کی گئی۔ اس نظام کو ایسے ماحول کے لیے تیار کیا گیا ہے جہاں کم قیمت ڈرون کو انتہائی مہنگے میزائل سے تباہ کرنا معاشی طور پر مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔

اگست 2026 میں پاورس نے مشرق وسطیٰ میں تیل اور گیس کے اہم انفراسٹرکچر کو ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے تقریباً 22.3 ملین ڈالر کا تجارتی معاہدہ بھی حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس نظام میں ڈرونز کی شناخت، نگرانی، درجہ بندی اور ابتدائی وارننگ کی صلاحیتیں شامل ہیں۔

کمپنی نے اسی عرصے میں متحدہ عرب امارات میں گارڈین انٹرسیپٹرز کی مقامی پیداوار بھی شروع کی، جہاں ایک مقامی کنٹریکٹر کو انٹرسیپٹرز تیار کرنے کے لیے تربیت، پرزے اور سافٹ ویئر فراہم کیے گئے۔

یوکرین سے پاورس کا کیا تعلق ہے؟

پاورس نے یوکرین میں تیار کی گئی دفاعی خودکار ٹیکنالوجی کو بھی اپنے کاروبار میں شامل کیا ہے۔ مارچ 2026 میں کمپنی نے جی1 ایکسپلوریشن کے ساتھ ایک انتظام کیا جس کے تحت یوکرین میں تیار کردہ خودکار دفاعی ٹیکنالوجیز کو تجارتی سطح پر لانے کے لیے پاورس یو ایس اے قائم کیا گیا۔

کمپنی کے مطابق جی1 نے سات مکمل تیار شدہ مصنوعات سمیت اپنا ٹیکنالوجی پورٹ فولیو فراہم کیا، جب کہ پاورس نے سرمایہ، آپریشنل معاونت اور تقسیم کا نظام فراہم کیا۔ اسی ٹیکنالوجی کے ساتھ گارڈین-1 اور گارڈین-2 انٹرسیپٹرز کی تیاری کو بھی جوڑا گیا ہے۔

کیا پاورس صرف ڈرون بناتی ہے؟

پاورس کا موجودہ ماڈل صرف ایک فضائی ڈرون بنانے والی کمپنی سے کہیں وسیع ہے۔ اس کے کاروباری یونٹس میں کائزن ایرو اسپیس بھاری وزن اٹھانے والے خودکار فضائی نظام پر کام کرتا ہے، ایجائل آٹونومی سمندری خودکار نظام اور جہازوں کو خودکار پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی پر کام کرتا ہے، جب کہ پاورس ڈیفنس ٹیکٹیکل ڈرونز اور مختلف دفاعی نظاموں کے انضمام پر توجہ دیتا ہے۔

پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت کیا ہوسکتی ہے؟

پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت تین سطحوں پر دیکھی جا سکتی ہے۔ پہلی، ڈرون ٹیکنالوجی میں تنوع؛ پاکستان کا دفاعی نظام طویل عرصے سے مقامی اور چینی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتا رہا ہے، جب کہ پاورس کے ساتھ تعاون امریکی ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر ایکو سسٹم تک رسائی کا نیا راستہ کھول سکتا ہے۔

دوسری انسدادِ ڈرون صلاحیت؛ جدید جنگوں میں صرف ڈرون استعمال کرنا ہی کافی نہیں بلکہ دشمن کے ڈرونز کو شناخت، ٹریک اور روکنا بھی اہم ہوچکا ہے۔ پاورس کا گارڈین خاندان اسی شعبے پر مرکوز ہے۔

تیسری مقامی پیداوار اور ٹیکنالوجی منتقلی؛ پاورس کے شریک بانیوں نے پاکستان میں مشترکہ ٹیکنالوجی اور ممکنہ مقامی پیداوار کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

کمپنی کے مطابق مقصد امریکی اور پاکستانی ٹیکنالوجی کو ملا کر مشترکہ صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ تاہم یہ ابھی مستقبل کی ممکنہ سمت ہے، حتمی پیداواری معاہدہ نہیں۔

پاکستان نے اصل میں کیا خریدا؟

اس وقت دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان نے پاورس سے ان مینڈ ایریل سسٹمز اور متعلقہ معاونت کا ایک محدود ابتدائی آرڈر دیا ہے، مگر اس آرڈر کی مالیت، تعداد اور مخصوص مصنوعات ظاہر نہیں کی گئیں۔

اس کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت مستقبل میں بغیر پائلٹ اور خودکار دفاعی نظام میں مزید تعاون کا راستہ کھولتی ہے، لیکن اسے فی الحال کسی بڑے طویل مدتی ڈرون خریداری معاہدے کے برابر قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔