فخر زمان نے اب تک 109 ٹی20 انٹرنیشنل میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے، جن میں انہوں نے 131 کے اسٹرائیک ریٹ اور 23.80 کی اوسط سے 2285 رنز اسکور کیے ہیں۔
ایشیا کپ میں کارکردگی اور عمر کے باعث بعض شائقین ان کی جگہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا اپلیکیشن ریڈیٹ پر پاک کرکٹ نامی اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ شیئر کی گئی جس کے مطابق ، فخر زمان کو بہت زیادہ مواقع ملے ہیں۔ ان کو ٹیم میں رکھنے کا جواز صرف اسی صورت بنتا اگر وہ دو سو پلس کے اسٹرائیک ریٹ سے کھیل رہے ہوتے۔
صارف نے مزید لکھا کہ ایک سو نو میچز میں آپ گن کر بتا سکتے ہیں کہ کتنے میچز میں وہ واقعی ٹیم کے لیے نمایاں کارکردگی دکھا پائے ہیں۔فخر زمان اب بھی ہر میچ میں ایسے پرفارم کرتے ہیں جیسے ان کا ٹی 20 کرکٹ میں ڈیبیو اُسی میچ سے ہوا ہے۔
ایشیا کپ 2025 کے فائنل میچ میں انڈین گیند باز ورون چکرواتی نے انہیں قابو کیے رکھا۔ اگر اتنا تجربہ بولرز کو پڑھنے یا کھیل کی سمجھ نہ دے، تو پھر ایسے تجربے کا کیا فائدہ جس میں آپ آسانی سے کسی کا شکار بن جائیں۔
اس پوسٹ کے شئیر ہوتے ہی صارفین کی جانب سے ملے جلے تاثرات سامنے آئے ایک صارف نے کمنٹ سیکشن میں لکھا کہ فخر زمان ایک طاقتور ہٹر ہیں، لیکن ان کی شاٹس کی رینج محدود ہے۔
جب گیند ان کے ہٹنگ زون سے باہر ہو، تو وہ زبردستی شاٹ کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کا نتیجہ زیادہ تر ٹاپ ایج یا آؤٹ کی صورت میں نکلتا ہے۔
کچھ صارفین نے نشاندہی کی کہ فخر زمان ون ڈے کرکٹ میں زیادہ مؤثر ہیں کیونکہ وہاں وہ وقت لے کر کھیلتے ہیں۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ فخرزمان سطحی طور پر جارحانہ بلے باز نظر آتے ہیں، لیکن جب وہ کریز پر وقت گزارتے ہیں، تب ہی وہ پرفارم کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ون ڈے میں ان کی کامیابی زیادہ ہے۔
کچھ صارفین نے لکھا کہ ٹی20 فارمیٹ میں اب نوجوان اور فریش ٹیلنٹ کو مواقع دینے کی ضرورت ہے۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ یہ اُن کا فخرزمان پر کوئی ذاتی حملہ نہیں ہے، لیکن اب وقت ہے کہ ہم نوجوانوں کو موقع دیں۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ فخر زمان ٹھوس کھلاڑی ہے، لیکن وہ ایسا نہیں ہے جس کے گرد آپ اگلی ٹیم بنائیں۔ 2026 تک وہ 36سال کے ہو جائیں گے اور تب تک انہیں اسکواڈ سے باہر ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ فخر زمان کا کیریئر کئی اہم یادگار اننگز سے بھرا پڑا ہے، خاص طور پر ون ڈے کرکٹ میں ان کی ڈبل سنچری اور چیمپئنز ٹرافی کی فائنل اننگ پاکستانی شائقین کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ لیکن ٹی20 کرکٹ میں بڑھتی ہوئی مسابقت، فٹنس اور نوجوان ٹیلنٹ کی دستیابی اب روایتی کرکٹ سے فاسٹ کرکٹ کا تقاضا کر رہی ہے۔







