برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے افغانستان میں نیٹو اور برطانوی افواج کے کردار سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیان کو خطرناک، توہین آمیز اور حقائق کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ خود اس نوعیت کا بیان دیتے تو بلا تردد معافی مانگتے۔ سر کیئر اسٹارمر نے یاد دلایا کہ نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکا کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر افغانستان میں جنگ لڑنے کے دوران 457 برطانوی فوجیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ نیٹو افواج افغانستان میں فرنٹ لائن پر موجود نہیں تھیں، سراسر غلط ہے،اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تبصرے نہ صرف اتحادی افواج کی قربانیوں کی توہین ہیں بلکہ جنگ میں جانیں قربان کرنے والے خاندانوں کے زخم بھی تازہ کرتے ہیں۔

برطانیہ میں اپوزیشن اور حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی امریکی صدر کے بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈینوک نے صدر ٹرمپ کے مؤقف کو “فضول بکواس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو افواج نے افغانستان میں فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے بھاری قیمت ادا کی۔

اس معاملے پر امریکا میں مقیم برطانوی شہزادہ ہیری نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں نیٹو افواج کی قربانیوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔ شہزادہ ہیری نے کہا کہ انہوں نے خود افغانستان میں فوجی خدمات انجام دیں، وہاں دوست بنائے اور دوستوں کو کھویا بھی۔ ان کے مطابق کئی والدین نے اپنے بیٹے اور بیٹیاں دفن کیں جبکہ بہت سے بچے اپنے والدین سے محروم ہو گئے، جن کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں نیٹو فوجی فرنٹ لائن پر نہیں تھے، ٹرمپ

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے برطانوی وزیراعظم اور دیگر رہنماؤں کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے بیان کا دفاع کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو اتحاد میں امریکا نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور عسکری و مالی دونوں حوالوں سے امریکا کا کردار دیگر تمام ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کا مؤقف نیٹو کے اندر ذمہ داریوں کی غیر مساوی تقسیم کی نشاندہی کرتا ہے، اور امریکا برسوں سے اس اتحاد کا سب سے بڑا بوجھ اٹھاتا آ رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیٹو جیسے حساس اتحاد پر اس نوعیت کے بیانات امریکا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات کو مزید گہرا کر سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سلامتی کے چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے۔