غیرملکی خبررساں ادارے خلیج ٹائمز کے مطابق یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب اتھرا دبئی نے باضابطہ طور پر دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ کا افتتاح کیا۔ اس نئے مرکز میں گولڈ ریٹیل، بلین ٹریڈنگ، ہول سیل کاروبار اور سرمایہ کاری سے وابستہ تمام شعبے ایک ہی چھت تلے موجود ہوں گے۔
اتھرا دبئی کا کہنا ہے کہ گولڈ اسٹریٹ میں سونے کے عناصر استعمال کیے جائیں گے، جو پورے ڈسٹرکٹ کا مرکزی اور نمایاں حصہ ہوگی۔ اس منصوبے کے ڈیزائن اور تعمیر سے متعلق تفصیلات مرحلہ وار جاری کی جائیں گی۔
تقریبِ افتتاح میں محمد ابراہیم الشیبانی (منیجنگ ڈائریکٹر، انویسٹمنٹ کارپوریشن آف دبئی)، محمد علی راشد لوٹاہ (چیئرمین و سی ای او، دبئی چیمبرز)، ڈاکٹر جمعہ المطروشی اور عصام گلدار ی (سی ای او، اتھرا دبئی) سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔
اتھرا دبئی کے سی ای او عصام گلدار ی نے کہا کہ یہ منصوبہ روایت، وسعت اور مواقع کو یکجا کرتا ہے، جب کہ دبئی فیسٹیولز اینڈ ریٹیل اسٹیبلشمنٹ کے سی ای او احمد الخاجہ نے کہا کہ سونا دبئی کی ثقافتی اور تجارتی شناخت کا لازمی حصہ ہے اور یہ منصوبہ اس ورثے کو ایک نئے، تخلیقی اور پائیدار دور سے ہم آہنگ کرے گا۔
دھیان رہے کہ دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ میں اس وقت 1000 سے زائد ریٹیلرز موجود ہیں، جن میں زیورات، پرفیوم، کاسمیٹکس اور لائف اسٹائل برانڈز شامل ہیں۔ نمایاں ناموں میں جوہرہ جیولری، ملبار گولڈ اینڈ ڈائمنڈز، ال رومیزان اور تنیشق شامل ہیں، جب کہ جویالکّس نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا سب سے بڑا 24 ہزار اسکوائر فٹ پر مشتمل فلیگ شپ اسٹور کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈویلپرز کے مطابق گولڈ اسٹریٹ ایک علیحدہ تفریحی مقام نہیں بلکہ پورے ڈسٹرکٹ کے تجارتی اور کاروباری نظام کو مزید مضبوط بنائے گی۔ اس منصوبے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ میں چھ ہوٹلوں پر مشتمل 1000 سے زائد کمروں کی سہولت بھی موجود ہے، جب کہ 2025 میں بِگ بس سیاحتی روٹس کے آغاز سے یہاں سیاحوں کی رسائی مزید آسان ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کاش اپنا گھر بچوں کے نام نہ کیا ہوتا، مرتے دم تک اس کا رنج رہے گا، گلوکارہ ترنم ناز
اتھرا دبئی کے مطابق 2025 میں اس ڈسٹرکٹ کو 147 سے زائد ممالک کے زائرین نے وزٹ کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024-25 کے دوران متحدہ عرب امارات نے 53.41 ارب ڈالر مالیت کا سونا برآمد کیا، جس کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، انڈیا، ہانگ کانگ اور ترکیہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یو اے ای دنیا کا دوسرا بڑا فزیکل گولڈ ٹریڈنگ ہب بن چکا ہے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ نیا گولڈ ڈسٹرکٹ دبئی کے عالمی گولڈ ٹریڈنگ ایکو سسٹم تک رسائی کو مزید وسعت دے گا، جب کہ گولڈ اسٹریٹ دبئی کو عالمی سطح پر سونے کی تجارت اور سیاحت کا ایک منفرد مرکز بنا دے گی۔







