وائٹ ہاؤس عہدیدار کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ مغربی کنارے میں امن و استحکام نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ اسرائیل کے طویل المدتی مفادات کے لیے بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق فلسطینی علاقوں میں حالات کی بہتری خطے میں پائیدار امن کے امریکی ہدف سے ہم آہنگ ہے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب برطانوی حکومت نے بھی مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کو وسعت دینے کے حالیہ کابینہ فیصلوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ لندن سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فلسطین کی جغرافیائی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے اور ایسے اقدامات خطے میں امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران کے سپریم لیڈر کو ہوشیار رہنا ہوگا، امریکی صدر
برطانوی حکومت نے واضح کیا کہ مغربی کنارے میں قبضے کو بڑھانے کی اسرائیلی کوششیں بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہیں اور اسرائیل فوری طور پر ایسے تمام فیصلے واپس لے جو خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ عالمی قوانین کے تحت مقبوضہ علاقوں میں آبادیوں کی توسیع غیر قانونی تصور کی جاتی ہے۔
ادھر پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ایسے خطرناک اور اشتعال انگیز اقدامات سے فوری طور پر باز رکھے۔ مسلم ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کسی بھی قسم کا حقِ خودمختاری تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات دراصل غیر قانونی الحاق اور فلسطینی عوام کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کی کوششوں کو تیز کر رہے ہیں، جو نہ صرف انسانی حقوق بلکہ عالمی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مسلم ممالک نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا، برطانیہ اور مسلم ممالک کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات عالمی سطح پر تنقید کی زد میں آ چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کو سفارتی ذرائع سے نہ سنبھالا گیا تو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔







