اس موقع پر کمشنر سرگودھا حافظ شوکت علی، ڈپٹی کمشنر حسین احمد رضا چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی، جب کہ تقریب میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔
اجتماعی شادیوں کی اس تقریب میں مسیحی برادری کے پانچ جوڑے بھی شامل تھے، جب کہ خصوصی افراد کے دو جوڑوں کو بھی اس تاریخی پروگرام کا حصہ بنایا گیا۔ خصوصی افراد کی شمولیت کے موقع پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے اور شرکاء نے حکومت کے اس اقدام کو بھرپور سراہا۔
تقریب کے دوران ہر جوڑے کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی جانب سے دو لاکھ روپے مالیت کے اے ٹی ایم کارڈ فراہم کیے گئے، تاکہ وہ اپنی نئی زندگی کا آغاز باوقار انداز میں کر سکیں۔
صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر سہیل شوکت بٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دھی رانی پروگرام ہزاروں والدین اور بیٹیوں کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ اب بیٹی کی شادی کے لیے قرض لینے کا تصور ختم ہو چکا ہے اور ریاست نے یہ ذمہ داری خود اپنے ذمے لے لی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے ریاست کو ماں جیسا کردار دے دیا ہے اور اس پروگرام کے ذریعے طبقاتی تفریق کے خاتمے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہزاروں والدین کی دعائیں اور بیٹیوں کے روشن مستقبل کی امیدیں اس فلاحی منصوبے سے وابستہ ہیں۔
صوبائی وزیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فلاحی ریاست صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے وجود میں آتی ہے اور پنجاب حکومت اس سمت میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔
تقریب کے اختتام پر نوبیاہتا جوڑوں اور ان کے اہلِ خانہ نے حکومتِ پنجاب کے اس تاریخی اقدام پر وزیرِ اعلیٰ مریم نواز اور صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ کا شکریہ ادا کیا۔






