طلبہ کی جانب سے سرکاری ملازمتوں کے کوٹہ سسٹم کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج، حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد ایک ہمہ گیر عوامی تحریک میں بدل گیا۔ اندازاً 1400 جانوں کی قربانی نے اس تحریک کو تاریخ کے صفحات میں رقم کر دیا۔
اسی ہنگامہ خیز پس منظر میں نہید اسلام ایک نوجوان، سادہ مزاج اور متحرک رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ بعد ازاں انہیں محمد یونس کی عبوری حکومت میں مختصر ذمہ داری بھی سونپی گئی۔
اب وہ 12 فروری کے عام انتخابات میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے سربراہ کی حیثیت سے میدان میں ہیں، ایک ایسی جماعت جو خود کو جولائی انقلاب کی سیاسی تعبیر قرار دیتی ہے۔
این سی پی کے قیام کے وقت نہید اسلام نے کہا تھا کہ جولائی انقلاب کے دوران سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ متبادل کون ہوگا؟ ان کے مطابق این سی پی اسی سوال کا جواب ہے۔
تاہم پارٹی کی سیاسی حکمتِ عملی اس وقت زیرِ بحث آئی جب انہوں نے جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے ساتھ انتخابی اتحاد کا اعلان کیا۔
جماعتِ اسلامی، جو ماضی میں بی این پی کے ساتھ بھی اتحاد کا حصہ رہی، حالیہ برسوں میں خود کو ایک منظم، نظریاتی مگر عملی سیاست کی حامل جماعت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
جماعت کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ وہ اب شمولیتی سیاست، شفاف حکمرانی اور آئینی اصلاحات کی حامی ہے اور ملک میں بدعنوانی و خاندانی سیاست کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔
نہید اسلام اس اتحاد کو نظریاتی نہیں بلکہ انتخابی اور اصلاحاتی اتحاد قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم اصلاحات، بدعنوانی کے خاتمے، اچھی حکمرانی، قومی خودمختاری اور بالادستیِ قانون جیسے مشترکہ نکات پر اکٹھے ہوئے ہیں۔
جماعتِ اسلامی کے ناقدین ماضی کے حوالے دیتے ہیں خصوصاً 1971 کی جنگِ آزادی کے تناظر میں۔ تاہم جماعت کے موجودہ رہنما یہ مؤقف اپناتے ہیں کہ پارٹی نے وقت کے ساتھ خود کو جمہوری دائرے میں ڈھالا ہے اور وہ قومی مفاہمت اور آئینی سیاست کی راہ پر گامزن ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش، عام انتخابات میں جماعت اسلامی کی پوزیشن کیسی ہے؟
سیاسی مبصرین کے مطابق جماعتِ اسلامی اس وقت ایک منظم اور متحرک انتخابی مشینری رکھتی ہے۔ ملک کے مختلف حلقوں میں اس کی جڑیں مضبوط ہیں، جو این سی پی جیسی نئی جماعت کے لیے عملی سہارا ثابت ہو سکتی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار آصف شہان نے کہا ہے کہ نہید اسلام کو دو بڑے فائدے حاصل ہیں، جوکہ جولائی تحریک کی علامتی حیثیت اور جماعتِ اسلامی کی منظم زمینی تنظیم ہیں۔
وہ خبردار بھی کرتے ہیں کہ تحریک سے جنم لینے والی جماعتیں یا تو اپنی شناخت مضبوط کرتی ہیں یا بڑی جماعت کے سائے میں تحلیل ہو جاتی ہیں۔ این سی پی کے لیے یہ ایک آزمائش ہے۔
جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمن کے بعض بیانات، خصوصاً خواتین کی قیادت کے حوالے سے، بحث کا موضوع بنے۔ تاہم جماعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اتحاد کی پالیسی کسی ایک جماعت کی نظریاتی لکیر پر نہیں بلکہ مشترکہ اتفاقِ رائے پر مبنی ہو گی۔
این سی پی نے 30 میں سے 2 خواتین امیدوار میدان میں اتارے ہیں، جب کہ جماعت نے اس بار کوئی خاتون امیدوار نامزد نہیں کی۔
ناقدین اسے نمائندگی کے حوالے سے کمزور پہلو قرار دیتے ہیں، مگر حامیوں کا کہنا ہے کہ اصل امتحان پارلیمنٹ میں قانون سازی کے وقت ہو گا۔
لازمی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات ، پاکستان اور انڈیا کی دلچسپی کے لیے کیا؟
نہید اسلام واضح کرتے ہیں کہ اگر خواتین اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ہمارے بنیادی مؤقف پر کوئی سمجھوتہ ہوا تو اتحاد برقرار نہیں رہے گا۔
نہید اسلام کا لب و لہجہ انڈیا کے حوالے سے سخت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات قومی وقار اور مساوی بنیادوں پر ہونے چاہئیں۔ وہ سرحدی ہلاکتوں، پانی کی تقسیم اور سیاسی مداخلت جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔
عوامی لیگ کے بارے میں ان کا مؤقف مزید واضح ہےکہ عوامی لیگ کو سیاست کرنے کا اخلاقی حق نہیں رہا۔
یہ مؤقف جماعتِ اسلامی کے اس بیانیے سے ہم آہنگ ہے جس میں وہ خود کو جولائی تحریک کا فطری اتحادی اور اصلاحات کا علمبردار قرار دیتی ہے۔
حالیہ سروے رپورٹس کے مطابق بی این پی اور جماعت کی قیادت میں اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، جب کہ این سی پی کی قومی حمایت 2 سے 6 فیصد کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔ تاہم سیاسی ماہرین کے مطابق قریبی مقابلے میں ایک چھوٹی جماعت بھی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔
ڈھاکا یونیورسٹی کی پروفیسر ثمینہ لطفہ کا کہنا ہے کہ جولائی تحریک کسی ایک جماعت کی ملکیت نہیں۔ این سی پی کو اپنی شناخت واضح کرنی ہوگی تاکہ وہ محض ایک اتحادی چہرہ نہ بن کر رہ جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بی این پی رہنما طارق رحمان شیخ حسینہ کے بعد بنگلہ دیش میں متوقع تبدیلی لا سکتے ہیں؟
دوسری جانب بعض تجزیہ کار جماعتِ اسلامی کی حکمتِ عملی کو سیاسی بلوغت قرار دیتے ہیں، جو نوجوان قیادت کے ساتھ مل کر اپنی شبیہ کو وسیع تر قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
نہید اسلام نے اعلان کیا ہے کہ اگر این سی پی دس برس میں حکومت بنانے کی صلاحیت پیدا نہ کر سکی تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ وہ اسے ذاتی عہد کے بجائے ایک سیاسی ہدف قرار دیتے ہیں۔
12 فروری کا انتخاب صرف نشستوں کی جنگ نہیں بلکہ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ آیا جولائی انقلاب کی توانائی پارلیمانی سیاست میں ڈھل سکتی ہے یا نہیں۔
کیا نہید اسلام ایک مستقل سیاسی قوت بن سکیں گے؟ کیا جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد نئی سیاسی ہم آہنگی کا آغاز ہے؟ یا یہ اتحاد نئی سیاست کو پرانی صف بندیوں میں جذب کر لے گا؟
ان تمام سوالوں کا جواب یہی ہے کہ فیصلہ اب ووٹر کے ہاتھ میں ہے اور بنگلہ دیش ایک بار پھر اپنی تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے۔







