انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت پر ناقص سیکیورٹی اور جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
انڈین جریدے دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال جنوری کے پہلے 15 دنوں کے دوران دہلی میں 800 سے زائد افراد لاپتہ ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر تقریباً 8 فیصد افراد اور 10 فیصد بچے دہلی سے لاپتہ ہونے کے واقعات میں شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق دہلی میں روزانہ اوسطاً 60 سے زائد افراد، جن میں 16 بچے بھی شامل ہوتے ہیں، لاپتہ ہو رہے ہیں۔
مزید برآں 2017 سے 2023 کے درمیان ہر سال اوسطاً 13 ہزار خواتین اور 4 ہزار کمسن لڑکیوں کی گمشدگی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعلقہ ادارے گزشتہ برسوں میں لاپتہ رپورٹ کیے گئے بچوں کی بڑی تعداد کو تاحال بازیاب نہیں کرا سکے، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہا پسند گروہوں کو کھلی چھوٹ دینے اور ریاستی سطح پر غفلت برتنے کے باعث انسانی اسمگلنگ اور دیگر مکروہ سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی پاسپورٹ کے بغیر 25 فروری کے بعد دُہری شہریت رکھنے والوں کا داخلہ نہیں ہوگا، ہوم آفس
ناقدین کے مطابق انتظامی ناکامی اور کمزور سیکیورٹی اقدامات نے انڈیا کو غیر محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
انڈین حکومت کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے جرائم اور لاپتہ افراد کے واقعات کے تدارک کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔







