میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایک مؤثر اور قابلِ عمل معاہدہ چاہتا ہے جو خطے اور عالمی برادری کے تحفظات کو دور کر سکے، ایران کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے، سفارت کاری کو موقع دیا جا رہا ہے، تاہم امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایک منصفانہ، متوازن اور باعزت معاہدہ چاہتا ہے، ایران دھمکیوں یا دباؤ کے تحت کوئی فیصلہ قبول نہیں کرے گا،اگر امریکا سنجیدگی دکھائے اور عائد اقتصادی پابندیوں میں حقیقی نرمی لائے تو پیش رفت ممکن ہے۔

مذاکرات سے قبل خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی مزید مضبوط کرتے ہوئے دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی تعینات کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے میں اپنے اتحادیوں اور مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے، تاہم تجزیہ کار اسے ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: “تبدیلی بہترین چیز”، ٹرمپ انتظامیہ کا مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا  طیارہ بردار بحری جہاز  بھیجنے کا اعلان

ادھر عالمی جوہری نگران ادارہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے ایران سے افزودہ یورینیم کے ذخیرے، اس کی افزودگی کی سطح اور مختلف جوہری تنصیبات تک مکمل اور بلا رکاوٹ رسائی کے حوالے سے وضاحت طلب کی ہے،شفافیت اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کو مکمل رسائی فراہم کیے بغیر اعتماد کی بحالی ممکن نہیں۔

واضح رہے کہ امریکا ایران سے یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اسے عالمی قوانین کے تحت پُرامن جوہری پروگرام جاری رکھنے کا حق حاصل ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ محدود سطح پر افزودگی اور نگرانی کے سخت نظام پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ ان پر عائد اقتصادی پابندیوں میں مرحلہ وار اور قابلِ تصدیق نرمی دی جائے۔

ماہرین کے مطابق جنیوا میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات کے لیے اہم ہیں بلکہ ان کے نتائج پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ عالمی تیل منڈی بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ تصادم یا کشیدگی میں اضافے سے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آسکتا ہے۔

ان  کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان سب سے بڑی رکاوٹ ہے، تاہم سفارتی ذرائع امید ظاہر کر رہے ہیں کہ بیک ڈور رابطوں اور بالواسطہ شرکت کے ذریعے کسی درمیانی راستے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ دنیا کی نظریں اب جنیوا مذاکرات پر مرکوز ہیں اور آئندہ چند روز اس حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔