ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق ریئر ایڈمرل تنگسیری نے آبنائے ہرمز میں جاری فوجی مشق  اسمارٹ کنٹرول آف دی اسٹریٹ آف ہرمز  کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسٹریٹ کو بند کرنے کا فیصلہ ایران کی اعلیٰ قیادت کے اختیار میں ہے، تاہم بطور سپاہی وہ اور ان کی فورس ہر حکم پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران استعمال ہونے والے ہتھیار فوجی مشقوں میں دکھائے گئے ہتھیاروں سے مختلف ہوتے ہیں اور حقیقی جنگی صلاحیت مشقوں میں ظاہر کی جانے والی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

مشق کے دوران منگل کو چند گھنٹوں کے لیے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت عارضی طور پر معطل رہی، جسے حکام نے تربیتی منظرنامے اور بحری سلامتی کے تقاضوں کا حصہ قرار دیا۔

مشق کے دوسرے مرحلے میں پاسدارانِ انقلاب نیوی کے جنگی اور فوری ردعمل دینے والے یونٹس نے حصہ لیا۔ اس دوران تیز رفتار میزائل بردار کشتیوں نے میزائل فائر کیے، ایران کے ساحلی علاقوں اور خلیج فارس کے جزائر سے میزائل داغے گئے۔

اس کے علاوہ ڈرون یونٹس نے جاسوسی اور حملہ آور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے سگنل جامنگ ماحول میں کارروائی کی مشق کی اور متحرک اور ساکن اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا۔

 یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کا امریکا اور ایران کے جوہری مذاکرات میں بالواسطہ شرکت کا اعلان

فوجی مبصرین کے مطابق مقررہ اہداف کو اعلیٰ درستگی کے ساتھ تباہ کیا گیا، جبکہ کمانڈر نے  نئے ہتھیاروں اور حکمتِ عملی  کے استعمال کا بھی عندیہ دیا، تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی سطح پر سمندری راستے سے برآمد ہونے والے تیل کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس آبی گزرگاہ کی بندش عالمی معیشت اور سکیورٹی پر وسیع اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خلیج فارس میں بین الاقوامی جہاز رانی کی سلامتی اور آزادانہ نقل و حرکت خطے کی جغرافیائی سیاست کا مرکزی موضوع بنی ہوئی ہے۔