یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلائی دوڑ میں چین کی بڑھتی پیش رفت کے باعث امریکا پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس دہائی میں دوبارہ چاند پر انسان بھیجنے کا ہدف حاصل کرے۔
ناسا نے اعلان کیا ہے کہ اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کے لیے ایکسپلوریشن اپر اسٹیج اور بلاک 1 بی اپ گریڈ کو منسوخ کیا جا رہا ہے۔
اب آرٹیمس II اور آرٹیمس III مشنز موجودہ اپر اسٹیج کے ساتھ ہی لانچ کیے جائیں گے، جب کہ آرٹیمس IV اور اس کے بعد کے مشنز کے لیے ایک اسٹینڈرڈائزڈ اپر اسٹیج استعمال کی جائے گی، جو ممکنہ طور پر تجارتی بنیادوں پر حاصل کی جائے گی۔
سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ آرٹیمس III اب چاند پر براہ راست لینڈنگ نہیں کرے گا۔ اس کے بجائے اورائن خلائی جہاز ایس ایل ایس کے ذریعے لانچ ہو کر نچلے زمینی مدار میں اسپیسx کے اسٹار شپ یا بلیو اوریجن کے بلیو مون لینڈر سے جڑ جائے گا۔ چاند پر پہلی لینڈنگ اب آرٹیمس IV کے تحت متوقع ہے۔
ناسا کے مطابق آرٹیمس مشنز کو سالانہ بنیاد پر چلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کا آغاز 2027 کے وسط میں آرٹیمس III سے ہوگا اور 2028 میں کم از کم ایک قمری لینڈنگ کی جائے گی۔
اساک مین نے کہا کہ ایس ایل ایس کی کم لانچ رفتار پروگرام کی سب سے بڑی کمزوری رہی ہے۔ آرٹیمس I کو لانچ ہوئے تقریباً ساڑھے تین سال گزر چکے ہیں، جب کہ ماضی میں اپالو دور کے دوران ہر چند ماہ بعد انسانی مشنز روانہ کیے جاتے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ راکٹ میں ہائیڈروجن اور ہیلیم لیک جیسے مسائل نے بھی تاخیر میں کردار ادا کیا۔ ناسا کے مطابق اہم ٹھیکیدار اس تبدیلی پر متفق ہیں اور کانگریس کی قیادت کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
ایکسپلوریشن اپر اسٹیج کا مرکزی ٹھیکیدار بوئنگ تھا، جسے اربوں ڈالر کا معاہدہ حاصل تھا۔ تاہم بوئنگ نے بیان میں کہا ہے کہ وہ آرٹیمس مشن کے لیے پرعزم ہے اور تیز رفتار لانچ شیڈول کے مطابق تیاری کرے گا۔
ان اعلانات کے بعد لیونر گیٹ وے کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ یہ مجوزہ قمری خلائی اسٹیشن چاند کے مدار میں تعمیر کیا جانا تھا، تاہم بلاک 1 بی اپ گریڈ کی منسوخی کے بعد اس کے لانچ پلان پر نظرثانی متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: سافٹ بینک کی حمایت یافتہ جاپانی کمپنی پے پے کا امریکی آئی پی او، 13.4 ارب ڈالر تک ویلیوایشن کا ہدف
سیاسی سطح پر بھی بحث جاری ہے۔ ٹیکساس سے ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز چاند کے گرد یا اس کی سطح پر مستقل امریکی موجودگی کے حامی رہے ہیں، تاہم اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ناسا قمری اسٹیشن کو ترجیح دیتا ہے یا براہ راست مون بیس پروگرام کی جانب بڑھتا ہے۔
ناسا کی نئی حکمت عملی کسی حد تک اپالو پروگرام کے ماڈل سے ملتی جلتی ہے، جہاں چاند پر تاریخی لینڈنگ سے قبل متعدد تیاری مشنز بھیجے گئے تھے، جن میں اپولو11 کی تاریخی پرواز بھی شامل تھی۔
ماہرین کے مطابق نئی پالیسی قمری لینڈنگ سے پہلے ممکنہ خطرات کم کرنے میں مدد دے گی، تاہم اس کے لیے اورائن خلائی جہاز اور لینڈر سسٹمز کی تیاری تیز کرنا ہوگی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو امریکا نہ صرف چاند پر واپسی یقینی بنا سکے گا بلکہ چین کے بڑھتے خلائی پروگرام کا بھی مؤثر جواب دے سکے گا۔







