صدر پزشکیان نے سوشل میڈیا پر کہاکہ کچھ ممالک نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ واضح رہے کہ ہم خطے میں دیرپا امن چاہتے ہیں، لیکن اپنی قوم کے وقار اور خودمختاری کا دفاع کرنے میں بالکل نہیں ہچکچائیں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ کسی بھی ثالثی میں ان سے بات ہونی چاہیے جنہوں نے یہ تنازع شروع کیا اور ایرانی عوام کے بارے میں غلط اندازہ لگایا۔

صدر پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ موجودہ جنگ کا آغاز ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کے دوران ہوا اور پچھلے سال جون میں بھی امریکا اور اسرائیل کے حملے اسی دوران شروع ہوئے تھے۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کے روز کہا کہ ایران پر فوجی کارروائی میں شدت آنے والی ہے، جب کہ اسرائیلی فوج نے جمعہ کی صبح نئی اور مزید شدید کارروائی کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ قطر، ترکی، مصر اور عمان نے اس تنازع کے دوران ایران اور مغربی ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ تاہم، ایران کی وزارتِ خارجہ نے چند روز قبل کہا تھا کہ موجودہ مرحلہ ملک کے دفاع کا ہے، نہ کہ سفارتکاری کا۔

دوسری جانب ایران کے ریفارم فرنٹ نے کہا ہے کہ ایران کو ایک نیا سپریم لیڈر منتخب کرنا چاہیے جو امریکی پروپیگینڈا کا مقابلہ کرے اور اندرونی تقسیم کم کرے۔

گروپ نے زور دیا کہ ملک میں سیاسی قیدیوں کی رہائی اور تمام معاشرتی عناصر کو یکجا کرنے سے ایران عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے۔

اصلاح پسند گروہ نے کہا کہ وسیع پیمانے پر جوابی حملے ایران کو عالمی سطح پر مظلوم ملک کے طور پر پیش کرنے کی صلاحیت کم کر رہے ہیں اور اگر پرانی سفارشات پر عمل کیا جاتا تو ایران کی سفارتی صلاحیت بہتر ہوتی۔

مزید پڑھیں: ایران سے جنگ کے پہلے 100 گھنٹوں میں امریکا کو 3.7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ

انہوں نے تمام ایرانی قوم کے مختلف گروہوں کو ملک کی خودمختاری اور قومی شناخت کے تحفظ کے لیے متحد ہونے کا پیغام دیا۔

صدر کے بیٹے یوسف پزشکیان نے کہا کہ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ آخری جنگی منظرنامے میں کیا چاہتی ہے، کیونکہ یہ فیصلہ کرے گا کہ کون سے اقدامات کیے جائیں اور کون سے بیانات دیے جائیں۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق ایرانی میڈیا زیادہ تر فوجی کامیابیوں یا شہری اموات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جب کہ میزائل لانچرز اور سکیورٹی اداروں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات کم نشر کی جا رہی ہیں۔