میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ کشیدگی اور حالیہ جنگی صورتحال کے بعد ممکن ہے کہ ایران کی سیاسی اور علاقائی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد ایران کی صورتحال شاید موجودہ حالت سے مختلف نظر آئے۔

انہوں  نے واضح کیا کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ کسی فوری سمجھوتے یا مفاہمت کی تلاش میں نہیں ہے، امریکا خطے میں اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اب تک ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے کہ روس نے ایران کو براہِ راست فوجی مدد فراہم کی ہو، تاہم امریکا صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

ایران میں ایک ابتدائی اسکول پر حملے سے متعلق سوال پر امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ خود ایران کی جانب سے کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ پر بھی تنقیدی تبصرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں دو طیارہ بردار جنگی جہاز بھیجنے پر غور کر رہا ہے، مگر اس وقت امریکا کو برطانیہ کی مدد کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ان اتحادیوں کو ترجیح دیتا ہے جو مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوں، نہ کہ وہ ممالک جو جنگ ختم ہونے کے بعد شامل ہونے کی کوشش کریں۔

مزید پڑھیں: ایران جنگ میں ہلاک 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا پہنچ گئیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت

دوسری جانب حالیہ کشیدگی کے دوران کویت میں ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے چھ امریکی فوجیوں کی میتیں امریکا منتقل کر دی گئی ہیں۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے بھی شرکت کی اور ہلاک فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

واضع رہے کہ  امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔