نیلامی کے آغاز کے موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ اور چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان موجود تھے، جنہوں نے اس موقع پر اسپیکٹرم نیلامی کی تفصیلات میڈیا کے ساتھ شیئر کیں۔

وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی دن ہے کیونکہ 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی پہلی بار عمل میں آئی ہے، جبکہ اس سے قبل پاکستان میں 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم موجود تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محدود اسپیکٹرم کی وجہ سے انٹرنیٹ کی رفتار سست رہی اور پاکستان خطے میں سب سے کم اسپیکٹرم پر کام کر رہا تھا۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل بھی ہر مرحلے پر مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں تاکہ فائیو جی نیٹ ورک کے قیام میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ نیلامی کے بعد فائیو جی ٹیکنالوجی کی دستیابی سے ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں بہتری آئے گی اور صارفین کو جدید ڈیجیٹل سہولیات میسر ہوں گی۔

انہوں  نے کہا کہ یہ اسپیکٹرم نیلامی ملک کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگی اور پاکستان کو خطے میں جدید ترین ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر فراہم کرے گی، نیلامی کے مکمل ہونے کے بعد فائیو جی ٹیکنالوجی کے لیے نیٹ ورک اور موبائل اپریٹرز کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔

پی ٹی اے چیئرمین حفیظ الرحمان نے بھی کہا کہ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی شفاف اور موثر طریقے سے کی گئی ہے، اور اس کا مقصد ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا اور صارفین کو جدید مواصلاتی سہولیات فراہم کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق 600 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی کے بعد پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوگا، ڈیجیٹل سروسز میں بہتری آئے گی اور ملک خطے میں ٹیلی کمیونیکیشن کے حوالے سے ایک اہم مقام حاصل کرے گا۔

یہ اقدام نہ صرف صارفین کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ ملک کی معیشت میں بھی اضافہ کرنے اور ڈیجیٹل بزنس ماڈلز کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔