عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نداف شوشانی نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران کے خلاف آئندہ تین ہفتوں کے لیے تفصیلی آپریشنل منصوبے تیار کیے گئے ہیں اور اس کے بعد کے مراحل کے لیے بھی حکمت عملی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کا مقصد ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت، جوہری تنصیبات اور سکیورٹی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے تاکہ وہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے نہ تو جنگ بندی کی درخواست کی ہے اور نہ ہی امریکا کے ساتھ کسی قسم کے پیغامات کا تبادلہ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق مرکزی صوبہ مرکزی (مارکزی) میں رات گئے حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اراک اور محلات کے رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جب کہ خمین شہر میں ایک لڑکوں کے اسکول کے قریب حملہ ہوا جس سے عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تہران، شیراز اور تبریز میں ایرانی حکومت کے عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران کے ڈرون حملوں کے باعث دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں کئی گھنٹوں کے لیے معطل رہیں جب کہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ پر ایک آئل تنصیب پر حملے کے بعد تیل کی لوڈنگ عارضی طور پر روک دی گئی۔ یہ بندرگاہ امارات کے مر بن خام تیل کی برآمدات کے لیے اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ ملی تو نیٹو کا مستقبل برا ہوگا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہے اور عالمی مہنگائی میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اتحاد بنائیں۔ تاہم برطانیہ، جاپان، جرمنی اور آسٹریلیا سمیت کئی اتحادی ممالک نے اس معاملے میں براہ راست فوجی کارروائی سے محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور سفارتی حل کی حمایت کی ہے۔
اسی دوران اسرائیلی فوج نے لبنان اور غزہ میں بھی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے ایران کے حمایت یافتہ گروہوں حزب اللہ اور حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ جنوبی لبنان میں محدود زمینی آپریشن شروع کرنے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔







