ایرانی میڈیا کے مطابق علی لاریجانی کو مشرقی تہران میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ نجی مصروفیت کے سلسلے میں وہاں موجود تھے، اس حملے میں ان کے بیٹے مرتضیٰ بھی جاں بحق ہوئے۔
ایرانی میڈیانے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیا گیا، جس کے بعد ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ واقعے کے بعد علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا گیا کہ ایران کی پیاری اور قابل فخر قوم! مسلم عوام اور دنیا کے آزاد لوگو! خدا کا بندہ خدا سے جاملا، علی لاریجانی کےاکاؤنٹ پر مزید لکھا گیا کہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ شہید ہو گیا ہے۔
اس سے قبل بھی ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ہاتھ سے تحریر کردہ پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں حالیہ حملوں میں جاں بحق افراد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا، جسے ان کی آخری تحریروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ اس نے تہران میں ایک کارروائی کے دوران ایران کی اہم سکیورٹی شخصیت کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی میڈیاکے مطابق اس حملے میں ایران کی بسیج فورس کے ایک سینئر کمانڈر غلام رضا سلیمانی بھی مارے گئے تھے۔
واضع رہے کہ علی لاریجانی کی ہلاکت خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی کے پروفیسر سلطان برکات کے مطابق اس واقعے کے بعد ایران میں سخت مؤقف رکھنے والے عناصر مزید مضبوط ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں سفارتی حل کی راہ مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ علی لاریجانی ایک ایسی شخصیت تھے جو داخلی سیاست اور خارجہ امور دونوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے، ان کی موجودگی میں مذاکرات اور سفارتی راستے کھلے رہنے کی امید موجود تھی، تاہم ان کی ہلاکت سے صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔
علی لاریجانی کی سوانح حیات
علی لاریجانی 1958 میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں ایران کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ ایران کے ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور اسلامی جمہوریہ کے اہم ستونوں میں شمار ہوتے تھے۔
انہوں نے پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کی اور ایران عراق جنگ کے دوران اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ بعد ازاں وہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر رہے اور تقریباً 12 برس تک مجلسِ شوریٰ کی قیادت کرتے رہے۔
انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے چیف مذاکرات کار بھی رہ چکے تھے اور انہیں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا قریبی مشیر تصور کیا جاتا تھا۔
علی لاریجانی کو ایران کی قدامت پسند مگر نسبتاً معتدل سوچ رکھنے والی قیادت میں شمار کیا جاتا تھا، جو داخلی استحکام اور سفارتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ مزید تین ہفتے جاری رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کر لی گئی ہے، اسرائیل
واقعے کے بعد ایران سمیت خطے بھر میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔







