جرمانوں کی تفصیلات کے مطابق گوگل پر اشتہاری طریقہ کار کے معاملے میں 2.9 ارب یورو، ایپل پر میوزک اسٹریمنگ تنازع پر 1.84 ارب یورو، جب کہ میٹا پر فیس بک مارکیٹ پلیس کے کیس میں 797 ملین یورو کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
یورپی یونین کا مؤقف ہے کہ اس کی منڈی میں کام کرنے والی کمپنیوں کو ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ اور صارفین کے تحفظ کے قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ ان اقدامات کو صرف قانونی کارروائی نہیں بلکہ امریکی مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو روکنے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔ واشنگٹن نے خبردار کیا ہے کہ حد سے زیادہ ضوابط نہ صرف جدت کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ اس سے بین الاقوامی تجارتی تعلقات بھی خراب ہو سکتے ہیں۔
یورپی یونین کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، جب کہ امریکی حکام کے مطابق اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سفارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تنازع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب عالمی سطح پر اصل مقابلہ زمین کا نہیں بلکہ ڈیجیٹل خودمختاری کا ہے، جہاں ڈیٹا پر کنٹرول سب سے بڑی طاقت بن چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی اب محض سہولت نہیں رہی بلکہ ایک جغرافیائی سیاسی ہتھیار بن چکی ہے اور یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ اربوں ڈالر کے جرمانے واقعی قوانین کی پاسداری ہیں یا ایک نئی عالمی کشمکش کا آغاز۔






