غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ ایران کے حوالے سے سفارتی کوششیں نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’اچھی خبریں آ رہی ہیں‘‘ اور کل کسی بڑے اعلان یا پیش رفت کا امکان موجود ہے جو خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک رسائی ممکن نہ ہوئی تو امریکا کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی، خاص طور پر ایرانی بندرگاہوں اور تجارتی سرگرمیوں سے متعلق سخت اقدامات میں نرمی کا انحصار مکمل طور پر پیش رفت پر ہوگا۔
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ کل وائٹ ہاؤس میں ایک نہایت اہم اور بااثر شخصیت کی آمد متوقع ہے، جس کے ساتھ ملاقات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس موقع پر ایک خصوصی پریس کانفرنس بھی متوقع ہے جس میں ممکنہ طور پر اہم اعلانات کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب خطے میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران نے کہا ہے کہ تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھولنے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ اقدام کسی بھی ممکنہ جنگ بندی یا بین الاقوامی معاہدے سے مشروط ہوگا، اگر شرائط کی خلاف ورزی ہوئی تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا آپشن بھی موجود رہے گا۔
مزید پڑھیں: 34 سال بعد لبنانی-اسرائیلی رہنما جمعرات کو مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان جاری تناؤ میں کمی کی امید پیدا کر رہا ہے بلکہ اس سے عالمی منڈیوں، خاص طور پر تیل کی ترسیل اور توانائی کے شعبے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں ہونے والی ممکنہ پیش رفت خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، عالمی تجارت اور سفارتی تعلقات کی سمت کا تعین کرے گی، جس پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔







