کاروباری دن کے دوران ہنڈرڈ انڈیکس ایک موقع پر 3,100 پوائنٹس تک بھی اوپر گیا، تاہم بعد ازاں معمولی منافع خوری کے باعث اس میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی۔ اس کے باوجود مارکیٹ مجموعی طور پر مثبت زون میں برقرار رہی اور انڈیکس 2,161 پوائنٹس یا 1.26 فیصد اضافے کے ساتھ 174,357 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ گزشتہ کاروباری روز یہ 172,196 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

یاد رہے کہ پیر کے روز مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید دباؤ دیکھا گیا تھا، جہاں ہنڈرڈ انڈیکس میں 1,700 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ مارکیٹ میں اس تیزی کی بڑی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اس بات کی تصدیق ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ پیکج کے تحت مزید 1 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔ اس پیش رفت کو معیشت کے لیے مثبت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف زرِمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کی توقع ہے بلکہ روپے پر دباؤ میں بھی کمی آ سکتی ہے۔

کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بیرونی مالی معاونت سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا براہ راست اثر اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز کی شدید مندی کے بعد آج مارکیٹ نے تیزی سے ریکوری دکھائی۔

مزید پڑھیں: ترکیہ اسرائیل کو تیل کی فراہمی سے کیسے محروم کر سکتا ہے؟

دوسری جانب مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ممکنہ امریکا ایران مذاکرات بھی مارکیٹ کی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر خطے میں کشیدگی میں کمی آتی ہے تو اس کے مثبت اثرات پاکستانی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ پر بھی مرتب ہوں گے۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ فی الوقت مارکیٹ خبروں کے زیر اثر ہے، لہٰذا سرمایہ کاروں کو محتاط رہتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں کیونکہ کسی بھی مثبت یا منفی خبر پر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔