منگل کو میزائل تجربے کے بعد پیوٹن کا کہنا تھا کہ سرمت میزائل کی تباہ کن صلاحیت اس کے مغربی ہم منصب میزائلوں سے چار گنا زیادہ ہے، یہ جدید جوہری میزائل رواں سال کے اختتام تک روسی فوج میں باقاعدہ شامل کر دیا جائے گا۔
سرمت میزائل کیا ہے؟
آر ایس-28 سرمت، جسے مغربی ممالک میں Satan II بھی کہا جاتا ہے، ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) ہے، جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی کم از کم مار تقریباً 5,500 کلومیٹر ہے، تاہم روسی صدر کا دعویٰ ہے کہ یہ میزائل 35 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ سرمت دنیا کے تمام موجودہ اور مستقبل کے میزائل دفاعی نظام کو بھی چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے برعکس مغربی دفاعی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اس کی حقیقی زیادہ سے زیادہ رینج تقریباً 18 ہزار کلومیٹر ہو سکتی ہے، جو پھر بھی دنیا کے تقریباً ہر حصے تک رسائی کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔
امریکی تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس کے مطابق سرمت میزائل35.3 میٹر لمبا ہے، 3 میٹر قطر رکھتا ہے، وزن تقریباً 208 ٹن ہے، 10 ٹن تک جوہری وارہیڈ لے جا سکتا ہے۔
روس کے مطابق یہ میزائل روایتی ICBMs کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے رفتار حاصل کرتا ہے اور اس کے انجن جلد بند ہو جاتے ہیں، جس سے دشمن کے دفاعی نظام کے لیے اسے ٹریک اور تباہ کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
🇷🇺🚀 #Russia has tested its new intercontinental ballistic missile #Sarmat, the world’s most powerful ICBM, capable of carrying multiple independently guided warheads, Avangard hypersonic glide vehicles, decoys and EW systems, making it extremely difficult to intercept. pic.twitter.com/qFQW9O2jdj
— Russian Embassy in Kenya/Посольство России в Кении (@russembkenya) May 13, 2026
روس نے حالیہ برسوں میں کئی جدید ہتھیار متعارف کروائے ہیں، جن میں آوانگارڈ ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل، اوریشنک درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل، پوسیڈن جوہری آبدوز ڈرون اور بوریویسٹنک نیوکلیئر پاورڈ کروز میزائل شامل ہیں۔
روس کا دعویٰ ہے کہ آوانگارڈ آواز کی رفتار سے 27 گنا زیادہ تیزی سے سفر کر سکتا ہے، جب کہ اوریشنک میزائل پورے یورپ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
روس یہ ہتھیار اب کیوں متعارف کر رہا ہے؟
صدر پیوٹن کے مطابق یہ ہتھیار امریکا کے میزائل دفاعی نظام کے جواب میں تیار کیے جا رہے ہیں۔ روسی قیادت کا مؤقف ہے کہ امریکا کا نیا گولڈن ڈوم دفاعی منصوبہ مستقبل میں روس کے جوہری توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔
روس کو خدشہ ہے کہ اگر امریکا کے پاس انتہائی مضبوط دفاعی شیلڈ موجود ہوئی تو وہ ممکنہ طور پر پہل کرتے ہوئے روسی جوہری صلاحیت کو محدود کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
یوکرین جنگ سے کیا تعلق ہے؟
واضح رہے کہ یہ میزائل تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ روسی حکومت حالیہ دنوں میں یہ اشارے دے رہی ہے کہ جنگ اپنے اختتامی مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین نے روس کے اورین برگ ریجن میں گیس تنصیبات کو نشانہ بنایا، جو روسی جنگی معیشت کو کمزور کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ امریکا اور یوکرین کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، تاہم ابھی حتمی تفصیلات بتانا قبل از وقت ہوگا۔







